کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص اپنے غلام لے کر عُشر وصول کرنے والے کے پاس سے گذرے
حدیث نمبر: 23724
٢٣٧٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) شعبة قال: سألت الحكم وحمادا عن رجل مر برقيق على عاشر، فقال: هؤلاء أحرار، [(قال) (٢) الحكم] (٣): ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے دریافت کیا کہ ایک شخص غلام لے کر عاشر کے پاس سے گذرا اور کہا کہ یہ سب آزاد ہیں ؟ حضرت حکم نے فرمایا یہ کہنا کچھ نہیں ہے، اور حضرت حماد فرماتے ہیں مجھے خوف ہے کہ وہ آزاد ہوجائیں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23724
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23724، ترقيم محمد عوامة 22724)
حدیث نمبر: 23725
٢٣٧٢٥ - وقال: حماد إني أخاف أن يعتقوا.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23725
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23725، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 23726
٢٣٧٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ عن أشعث عن (الحسن) (١) في رجل مر بمملوك على عاشر فقال: هو حر، (فقال) (٢): كان لا يرى أن يعتق بهذا القول، ولا يرى بأسا أن يقوله.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ کوئی شخص غلام لے کر عاشر کے پاس سے گذرے اور کہے کہ یہ آزاد ہے، فرمایا اس طرح کہنے سے غلام آزاد نہ ہوگا، اور اس طرح کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23726
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23726، ترقيم محمد عوامة 22725)
حدیث نمبر: 23727
٢٣٧٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن جرير بن حازم عن حماد (عن) (١) إبراهيم في الرجل يمر بالرقيق على (العاشر) (٢) (فيقول) (٣): هم أحرار، ينوي: من العمل، قال: لا (يعتقون) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو غلام لے کر عاشر کے پاس سے گذرا اور کہنے لگا کہ یہ آزاد ہیں، اور نیت یہ کرتا ہے کہ خدام کام کاج سے آزاد ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ غلام آزاد نہ ہوں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23727
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23727، ترقيم محمد عوامة 22726)