حدیث نمبر: 23718
٢٣٧١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مغيرة عن إبراهيم في الرجل يسلم إلى الرجل في الطعام، فيحل الأجل فيجيء. (إليه) (١) فيقول: هذا طعامك قد كلته فخذه، قال (إبراهيم) (٢): لا يأخذه حتى يعيد كيله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے ساتھ کھانے میں بیع سلم کی، جب مقررہ وقت آیا تو وہ شخص آیا اور کہنے لگا یہ تیرا کھانا ہے میں نے اس کو کیل کرلیا ہے تو اس کو وصول کرلے، ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب تک یہ دوبارہ کیل نہ کرے وصول نہیں کرے گا۔
حدیث نمبر: 23719
٢٣٧١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (ضابئ) (١) بن (عمرو) (٢) قال: سألت سالم بن عبد اللَّه عن الرجل يسلم إلى الرجل في الطعام ⦗٣١٨⦘ فيجيء إلى (المداسة) (٣) فيأخذه ويقول: (اشتر) (٤) مني، قال: من شاء خادع نفسه، (يقبضه) (٥) ثم يبيعه إن شاء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضابیٔ بن عمرو فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبد اللہ سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے دوسرے کے ساتھ کھانے میں بیع سلم کی، پھر وہ کہنے والی جگہ پر آیا اور اس کو وصول کیا اور کہنے لگا یہ مجھ سے خرید لو، تو ایسا کرنا کیسا ہے ؟ فرمایا جو چاہے اپنے آپ کو دھوکا دے دے، فرمایا قبضہ کرے پھر اگر چاہے تو فروخت کردے۔