حدیث نمبر: 23708
٢٣٧٠٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام قال: سئل الحسن عن كسب الكساح، فقال: ما تريدودن إليهم دعوهم؟ فلولاهم ⦗٣١٥⦘ السيل) (١) بكم] (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے صفائی کرنے والی کی اجرت کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا تم ان سے کیا چاہتے ہو ؟ ان کو چھوڑ دو ۔ اگر وہ نہ ہوں تو گندگی تمہیں بہا لے جائے۔
حدیث نمبر: 23709
٢٣٧٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن (هشام) (١) عن محمد أنهم كانوا يكسحون لهم فيعطوهم أجورهم.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صفائی کرنے والے اسلاف کے لیے صفائی کیا کرتے تھے اور انہیں اس کی اجرت ملتی تھی۔
حدیث نمبر: 23710
٢٣٧١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حسن عن مطرف عن الحسن أنه كان يكره أجر الكساح.
مولانا محمد اویس سرور
حسن صفائی کرنے کے اجرت وصول کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 23711
٢٣٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: (حدثنا مهدي) (١) بن ميمون عن واصل مولى (أبي عيينة) (٢) عن رجل عن ابن (عمر) (٣) أن رجلا سأله فقال: أصبت مالا من كنس هذه الحشوش، فقال: فيه قولا شديدا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ میں نے ان بیت الخلاء کی صفائی سے یہ مال پایا ہے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے متعلق سخت الفاظ استعمال فرمائے۔
حدیث نمبر: 23712
٢٣٧١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل الأزرق عن الشعبي أنه كره أن يُسْلِم الرجل غلامه كساحا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے ناپسند کیا کہ آدمی اپنے غلام کے سپرد صفائی کرے۔
حدیث نمبر: 23713
٢٣٧١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن أبان بن يزيد (قال) (١): حدثنا (أبو) (٢) عبد اللَّه (الشقري) (٣) أن ابن عمر (سئل) (٤) عن كسب ⦗٣١٦⦘ الكناس؟ فقال: (خبيث) (٥)، كسب خبيث، أكل خبيث، لبس خبيث (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے صفائی کرنے کی اجرت کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : خبیث ہے، کمائی خبیث ہے، اس کا پہننا خبیث ہے اور کھانا خبیث ہے۔