حدیث نمبر: 23692
٢٣٦٩٢ - [حدثنا أبو محمد عبد اللَّه بن يونس قال: حدثنا (أبو عبد الرحمن) (١) بقي بن مخلد قال: حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا] (٢) سفيان عن عثمان ⦗٣١١⦘ ابن الأسود عن مجاهد في الرجل يصرف عند الرجل (الدنانير) (٣) (فيفضل) (٤) القيراط (٥) (ذهبًا) (٦) قال: لا بأس أن يأخذ به كذا (و) (٧) كذا درهما.
حدیث نمبر: 23693
٢٣٦٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن يزيد بن إبراهيم عن الحسن في الرجل يشتري (من الرجل) (١) الذهب بالدراهم فيزن (الدنانير) (٢) (فتزيد) (٣) فيأخذ بفضلها (فضة) (٤) قال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی سے سونے کو دراہم کے بدلے خریدے، اور دیناروں کا وزن کرے تو ان کو زیادہ پائے اور زائد کے بدلے چاندی وصول کرے تو کوئی حرج نہیں ہے، اور حضرت ابن سیرین نے اس کو ناپسند فرمایا ہے ، فرمایا : سب کس سب سونا وصول کرو۔
حدیث نمبر: 23694
٢٣٦٩٤ - وكره ذلك ابن سيرين وقال: خذ به (أجمع) (١) ذهبا.
حدیث نمبر: 23695
٢٣٦٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن شعبة (عن الحكم) (١) عن إبراهيم أنه كره أن يأخذ بنصف (الدنانير) (٢) ذهبا] (٣) وبنصفها فضة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہم اس کو ناپسند کرتے تھے کہ آدھے دیناروں کے بدلے سونا اور آدھے کے بدلے چاندی لے۔
حدیث نمبر: 23696
٢٣٦٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن يزيد قال: كان ابن سيرين يكره الوازنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین دونوں کو برابر کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 23697
٢٣٦٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم أنه كان يكره أن يبيع الرجل الدينار فيأخذ بعضه ذهبا وبعضه فضة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ کوئی شخص دینار کی بیع کرے اور بعض کے بدلے سونا اور بعض کے بدلے چاندی لے، اور حضرت حکم اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 23698
٢٣٦٩٨ - قال: وبيان الحكم لا يرى (بذلك) (١) بأسا.
حدیث نمبر: 23699
٢٣٦٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أزهر عن ابن عون قال: سألت محمدا، قلت: أشتري الدنانير اليسيرة وأقول: أنت بريء من وزنها، قال: لا أعلم به بأسا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون فرماتے ہیں کہ میں نے محمد رحمہ اللہ سے دریافت کیا، میں نے دینار خریدے اور میں نے کہا کہ تو ان کے وزن سے بری ہے ؟ آپ نے فرمایا میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔