حدیث نمبر: 23686
٢٣٦٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبد الواحد عن الحكم في الدينار الشامي بالدينار الكوفي وفضل الشامي فضة، قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم سے دریافت کیا گیا کہ شامی دینار کو کوفی دینار کے بدلے فروخت کرنا اور شامی دینار کا ایک چاندی کا اضافہ ہونا کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا س میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 23687
٢٣٦٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 23688
٢٣٦٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور قال: سألت إبراهيم عن الدينار الشامي بالدينار الكوفي وفضله فضة؟ فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے دریافت کیا کہ شامی دینار کو کوفی دینار کے بدلے فروخت کرنا اور اس میں ایک چاندی کا اضافہ ہو تو کیسا ہے ؟ آپ نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حدیث نمبر: 23689
٢٣٦٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن معمر عن رجل عن ابن سيرين أنه سئل عن مائة مثقال بمائة دينار وعشرة دراهم: فكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے دریافت کیا گیا کہ سو مثقال کو سو دینار اور دس دراہم کے بدلے فروخت کرنا کیسا ہے ؟ انہوں نے اس کو ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 23690
٢٣٦٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: يكره دينار شامي بدينار (كوفي) (١) و (درهم) (٢)، ولا بأس إذا كان لك على رجل دينار كوفي (فيعطيك) (٣) دينارا شاميا وتشتري الفضل منه بشيء، ولا تفترقا إلا وقد تصرم ما بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ناپسند کرتے تھے کہ شامی دینار کو کوفی دینار اور ایک درہم کے بدلے فروخت کیا جائے، اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ کسی شخص کے ذمہ کوئی دینار ہوں، اور وہ آپ کو شامی دینار دے دے، اور زیادتی کے بدلے کوئی چیز خرید لے، اور وہ دونوں اس وقت تک جدا نہ ہوں جب تک کہ آپس کا معاملہ ختم نہ کرلیں۔
حدیث نمبر: 23691
٢٣٦٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد عن موسى بن مسلم قال: سألت طاوسا، قلت: دينار ثقيل بدينار أخف منه و (درهم) (١) قال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت موسیٰ بن مسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت طاؤس سے دریافت کیا کہ ایک دینار وزنی کو ایک دینار ہلکا اور ایک درہم کے بدلے فروخت کرنا کیسا ہے ؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ہے۔