کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: قرض اور عطیہ دینے پر ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 23666
٢٣٦٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن عبد الرحمن بن عابس عن سليم بن (أذنان) (١) عن علقمة (سمعته) (٢) يقول: لأن أقرض رجلا مرتين أحب إلي من أن أعطيه مرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں کسی شخص کو دو مرتبہ قرض دوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی کو ایک مرتبہ کوئی ہدیہ دوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23666
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23666، ترقيم محمد عوامة 22670)
حدیث نمبر: 23667
٢٣٦٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن طلحة عن عبد الرحمن بن عوسجة عن البراء بن عازب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من منح منيحة (ورق) (١) أو (منح) (٢) منيحة لبن؛ أو (هَدى) (٣) (زقاقا) (٤) كان له كعتق رقبة" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص کسی کو کچھ دراہم قرض دے، یا کچھ دودھ قرض دے، یا تنگ دست کو ہدیہ دے اس کو اتنا ثواب ملے گا جیسے کہ غلام آزاد کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23667
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٨٦٦٥)، والترمذي (١٩٥٧)، والحاكم ١/ ٥٧١، وابن حبان (٥٠٩٦)، والطيالسي (٧٤٠)، والبخاري في الأدب المفرد (٨٩٠)، ويعقوب في المعرفة ٣/ ١٧٨، والعقيلي (٤/ ٨٦)، والطبراني في الأوسط (٧٢٠٢)، والخرائطي في مكارم الأخلاق ص ١٨، وتمام (٥٣٩/ الروض)، والبيهقي في الشعب (٢٣٨٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23667، ترقيم محمد عوامة 22671)
حدیث نمبر: 23668
٢٣٦٦٨ - حدثنا أبو بكر (قال) (١): حدثنا وكيع قال: حدثنا دلهم بن صالح الكندي عن (حميد بن) (٢) عبد اللَّه (الكندي) (٣) عن علقمة بن قيس قال: قال عبد اللَّه: لأن أقرض مالا مرتين، أحب إلي من أن أتصدق به مرة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ میں کسی کو دو مرتبہ قرضہ دوں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ایک مرتبہ صدقہ کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23668
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23668، ترقيم محمد عوامة 22672)
حدیث نمبر: 23669
٢٣٦٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن الشيباني عن القاسم ابن عبد الرحمن (عن) (١) قبيصة (بن) (٢) حصين أو حصين (بن) (٣) قبيصة (٤) عن ابن مسعود أنه قال: من منح ورقا أو لبنا أو (هدى) (٥) زقاقا أو طريقا فعدل رقبة (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کوئی شخص کسی کو کچھ دراہم قرض دے، یا کچھ دودھ قرض دے، یا تنگ دست کو ہدیہ کر دے اس کو اتنا ثواب ملے گا جیسے کہ غلام آزاد کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23669
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ حصين بن قبيصة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23669، ترقيم محمد عوامة 22673)
حدیث نمبر: 23670
٢٣٦٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن إبراهيم عن علقمة قال: قرض مرتين كإعطاء مرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ دو مرتبہ کسی کو قرضہ دینا ایک مرتبہ عطیہ دینے کے برابر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23670
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23670، ترقيم محمد عوامة 22674)
حدیث نمبر: 23671
٢٣٦٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حنظلة عن طاوس قال: ⦗٣٠٤⦘ من منح منيحة لبن بيان له بكل حلبة عشر حسنات (غزرت) (١) أو (بكأت) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص کسی کو دودھ تحفہ میں پیش کرے تو اس کے لئے ہر دھار کے بدلہ میں دس نیکیاں ہوں گی۔ خواہ وہ دھار کثیر دودھ والی ہو یا کم دودھ والی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23671
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23671، ترقيم محمد عوامة 22675)
حدیث نمبر: 23672
٢٣٦٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عطاء قال: من منح لبنا أو أرضا كان له (أجر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ جو شخص دودھ یا زمین قرضہ میں دے اس کے لئے اجر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23672
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23672، ترقيم محمد عوامة 22676)
حدیث نمبر: 23673
٢٣٦٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) محمد بن شريك قال: حدثنا عطاء عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "نعم الإبل الثلاثون (تحمل) (٢) (على) (٣) إنجيبها) (٤) و (تعير) (٥) (أداتها) (٦)، وتمنح غزيرتها، و (تحلبها) (٧) يوم وردها في أعطانها" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بہترین اونٹ تیس ہیں۔ ان میں سے مضبوط اور پھرتیلے اونٹوں پر سواری کی جائے۔ اور جو ذرا خستہ حال ہوں ان کو اجرت پر دیا جائے اور جو کثرت سے دودھ دیتی ہوں ان کو کسی کو تحفہ کے طور پردے دیا جائے۔ اور جب وہ اپنے باڑے میں آئیں تو ان کا دودھ دوہا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23673
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٩٧٦٦)، وابن عساكر ٣٧/ ٣٤٣، وأخرجه عبد الرزاق (٦٨٦٠) موقوفًا.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23673، ترقيم محمد عوامة 22677)
حدیث نمبر: 23674
٢٣٦٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا عكرمة بن عمار عن علقمة بن الزبرقان قال: قلت لأبي هريرة ما حق الإبل؟ قال: أن تمنح (الغزيرة) (١) ⦗٣٠٥⦘ (و) (٢) (أن) (٣) تعطي الكريمة، وتطرق (الفحل) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ بن زبرقان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا اونٹ کا حق کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کہ زیادہ دودھ والی کا دودھ تحفتاً کسی کو دیا جائے اور شریف آدمی ک و سواری کے لیے دیا جائے اور اس کو جفتی کے لئے چھوڑا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23674
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23674، ترقيم محمد عوامة 22678)
حدیث نمبر: 23675
٢٣٦٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا عبد العزيز بن سياه عن حبيب بن أبي عمرة عن سعيد بن جبير عن ابن عباس قال: لأن أُقرض (مائتي) (١) درهم (مرتين) (٢) أحب إلي من أن (أتصدق) (٣) بها مرة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ میں کسی کو دو سو درہم قرض دوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں ان کو ایک مرتبہ صدقہ کروں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23675
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عبد العزيز ثقة على الصحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23675، ترقيم محمد عوامة 22679)
حدیث نمبر: 23676
٢٣٦٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي ذئب عن الزهري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ثلاثُ، سنةٌ، عليَّ أجرهن، -يعني من (عظمه) (١) -: المنيحة والأضحية والرجل يحج عن الرجل لم يحج قط" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین کاموں کا اجر میرے ذمہ ہے، یعنی بڑے عظیم کام ہیں، تحفہ دینا، قربانی کرنا، اور آدمی کا دوسرے شخص کی طرف سے حج کرنا جبکہ اس نے خود بالکل حج نہ کیا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23676
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الزهري تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23676، ترقيم محمد عوامة 22680)
حدیث نمبر: 23677
٢٣٦٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا المسعودي عن علي ابن الأقمر عن شريح قال: ما أقرض رجل رجلا قرضا (منيحة) (١) ولا مالا ⦗٣٠٦⦘ (إلا) (٢) كان (المقرض) (٣) أفضلهما، وإن مضى فأحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی شخص قرضہ نہیں دیتا اور نہ ہی مال دیتا ہے مگر مقرض ان دونوں سے افضل ہوتا ہے، اور اگر ادا کرے تو اچھا ادا کرنا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23677
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23677، ترقيم محمد عوامة 22681)
حدیث نمبر: 23678
٢٣٦٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيدة بن حميد عن منصور عن سالم بن أبي الجعد قال: قال أبو الدرداء: لأن أقرض رجلا (دينارين) (١) (مرتين) (٢) أحب إلي من أن أتصدق (بهما) (٣) إني إذا (أقرضتهما) (٤) ردا علي فأتصدق بهما فيكون لي أجران (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الدرداء فرماتے ہیں کہ میں کسی کو دو دینار قرضہ دوں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں ان دونوں کو صدقہ کروں، بیشک میں جب ان کو صدقہ کروں گا پھر وہ مجھے واپس ملیں گے پھر میں ان کو صدقہ کروں گا تو مجھے دو گنا اجر ملے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23678
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23678، ترقيم محمد عوامة 22682)