حدیث نمبر: 23624
٢٣٦٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة رواية قال: إن اليمين الفاجرة (منفقة) (١) للسلعة ممحقة للكسب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیشک جھوٹی قسم ساز و سامان کے زوال کا اور کمائی میں بےبرکتی کا سبب ہے۔
حدیث نمبر: 23625
٢٣٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن ⦗٢٩١⦘ إسحاق عن معبد (بن) (١) كعب بن مالك عن أبي قتادة (قال: قال) (٢) النبي ﷺ (٣): "إياكم وكثرة الحلف فإنه ينفق ثم يمحق" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : زیادہ قسم اٹھانے سے بچو، بیشک اس کی وجہ سے شروع میں مال کچھ بڑھتا ہے پھر کم ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 23626
٢٣٦٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن الوليد بن كثير عن معبد بن كعب بن مالك عن أبي (قتادة) (١) أنه سمع النبي ﷺ يقول: "إياكم وكثرة الحلف في البيع فإنه ينفق ثم يمحق" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بیع میں زیادہ قسمیں اٹھانے سے بچو، بیشک اس کی وجہ سے پہلے مال بظاہر بڑھتا ہے پھر کم ہوجاتا ہے۔
حدیث نمبر: 23627
٢٣٦٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا محمد بن طلحة عن محمد بن (جحادة) (١) عن (زاذان) قال: كان (علي) (٢) يأتي السوق فيسلم ثم يقول: يا معشر التجار! إياكم وكثرة الحلف في البيع، فإنه ينفق السلعة ويمحق البركة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زاذان فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بازار آتے تو سلام کرتے اور فرماتے ، اے تاجرو ! بیع میں زیادہ قسمیں اٹھانے سے بچو، بیشک اس کی وجہ سے سامان تو بک جاتا ہے لیکن برکت ختم ہوجاتی ہے۔
حدیث نمبر: 23628
٢٣٦٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن سلمة (بن) (١) زياد بن (أخي) (٢) سالم (بن) (٣) أبي الجعد عن سالم قال: قال ابن ⦗٢٩٢⦘ مسعود: الأيمان (لقاح) (٤) البيوع وتمحق الكسب (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ قسم اٹھانا بیوع کو بڑھانے اور کسب کو ختم کرنے کا سبب ہے۔
حدیث نمبر: 23629
٢٣٦٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن شقيق عن قيس بن أبي (غرزة) (١) قال: كنا نبتاع (الأوساق) (٢) بالمدينة، وكنا نسمي أنفسنا السماسرة، (فأتانا) (٣) النبي ﷺ فسمانا باسم هو أحسن مما كنا نسمي به أنفسنا، فقال: "يا معشر التجار! إن هذا البيع يحضره اللغو والحلف فشوبوه بالصدقة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ مدینہ میں تجارت کرتے تھے، اور ہم اپنے آپ کو سماسر . کے نام سے پکارتے تھے، پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں اس سے اچھے نام سے پکارا جس سے ہم اپنے آپ کو پکارتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے تاجرو ! اس کاروبار میں لغو کام اور قسم اٹھائی جاتی ہے، پس اس کی تلافی صدقہ کے ساتھ کرو۔
حدیث نمبر: 23630
٢٣٦٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن بكر السهمي قال: حدثنا حاتم ابن أبي صغيرة عن عمرو بن دينار عن البراء بن عازب عن النبي ﷺ بنحو من حديث قيس بن أبي (غرزة) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23631
٢٣٦٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن (بشار) (١) بن (كدام) (٢) السلمي عن محمد بن زيد عن ابن عمر قال: قال النبي ﷺ: "الحلف حنث أو ندم" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے قسم اٹھانا حانث ہونے یا نادم ہونے کا سبب ہے۔ ( ان دو میں سے ایک کام ضرور ہوگا) ۔
حدیث نمبر: 23632
٢٣٦٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن علي بن مدرك عن أبي (زرعة) (١) عن (خرشة) (٢) بن الحر عن أبي (ذر) (٣) عن النبي ﷺ قال: " (ثلاثة) (٤) لا يكلمهم اللَّه (يوم القيامة) (٥) ولا يزكيهم ولهم عذاب أليم: المنان و (المسبل) (٦)، والمنفق سلعته بالحلف (الكاذب) (٧) " (٨).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کلام نہیں فرمائے گا، اور نہ ہی ان کو گناہوں سے پاک کرے گا اور ان کو دردناک عذاب دے گا، احسان جتلانے والا، شلوار ٹخنوں سے نیچے لٹکانے والا اور جھوٹی قسم اٹھا کر سامان فروخت کرنے والا۔
حدیث نمبر: 23633
٢٣٦٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن مجمع الأنصاري قال: سمعت خالد بن (سعد) (١) مولى أبي مسعود قال: سمعت أبا هريرة يقول: ⦗٢٩٤⦘ الكذب ملح البيع: ينفق السلعة ويمحق الكسب (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں : جھوٹ بیع کو خوشنما اور تیز کرتا ہے، سامان کو بکوا دیتا ہے لیکن کسب کو ختم کردیتا ہے۔