حدیث نمبر: 23581
٢٣٥٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا كاتب عبدَه وله عبدٌ أو أمة فهو من مكاتبته، وإن كان له ولد قد كتمهم فليس (له) (١) ذلك.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے غلام کو مکاتب بنالے اور اس کے غلام اور باندی اور بھی موجود ہو، تو وہ اس کے مکاتبت میں ہوگا، اور اگر اس کے بچے ہوں اور وہ ان کو چھپالے تو اس پر کچھ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23582
٢٣٥٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم بنحوه.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23583
٢٣٥٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (بكر) (١) عن ابن جريج عن عطاء قال: قلت له: (رجل) (٢) كاتب عبدًا له أو قاطعه فكتمه (مالا) (٣) له: رقيقا أو عينًا أو مالا (٤) غير ذلك، قال: هو للعبد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ ایک شخص نے اپنے غلام کو مکاتب بنایا، اس نے اپنا مال چھپا دیا، تو غلام ، یا عین یا مال وغیرہ کس کے ہوں گے ؟ آپ نے فرمایا وہ غلام کے لئے ہوگا۔
حدیث نمبر: 23584
٢٣٥٨٤ - و (قاله) (١) عمرو بن دينار وسليمان بن موسى.
حدیث نمبر: 23585
٢٣٥٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (أبي) (١) عدي عن يونس عن الحسن قال: أم ولده (وولده) (٢) يدخلون جميعا في مكاتبته.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ ام ولد اور اس کی اولاد سب مکاتبت میں داخل ہوں گے۔