حدیث نمبر: 23527
٢٣٥٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن إسماعيل بن سالم قال: شهدت القاسم بن عبد الرحمن (١) و (خاصم) (٢) إليه رجل (عاملًا) (٣) من عمال الحجاج غصبه طعاما كان له، فسأله القاسم البينة، فجاء ببينته فشهدوا أنه أخذ طعاما له من بيوته، فقال لهم القاسم: كم (الطعام الذي أخذه؟ قالوا: لا ندري ما كيله، قال: فإني لا أقضي له بشيء حتى) (٤) تخبروني بكيل ما أخذ من الطعام؟.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ میں حضرت قاسم بن عبد الرحمن کی خدمت میں حاضر تھا، آپ کے پاس ایک شخص حجاج کے عمال سے جھگڑا کرتے ہوئے آیا کہ اس کا کھانا اس نے غصب کیا ہے، حضرت قاسم نے اس سے گواہ کا مطالبہ کیا، وہ گواہ لے آیا، اُنہوں نے گواہی دی کہ اس نے اس کے گھر سے کھانا اٹھایا ہے، حضرت قاسم نے فرمایا کہ کتنا کھانا تھا جو اس نے اٹھایا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا کہ وہ تو ہمیں نہیں معلوم ، آپ نے فرمایا کہ جب تک تم لوگ مجھے اس کے وزن کے بارے میں نہیں بتاؤ گے میں فیصلہ نہیں کروں گا۔