حدیث نمبر: 23524
٢٣٥٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (هشام) (١) بن عروة عن أبيه أن النبي ﷺ اشترى من أعرابي جزورًا بوسق من تمر فأرسلني إلى خولة بنت حكيم فأوفته وقال: "خياركم الموفون (المطيبون) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے ایک وسق کھجوروں کے بدلے میں اونٹ خریدا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خولہ بنت حکیم کے پاس پیغام بھیجا تو انہوں نے ایک وسق مکمل بھر کر اور پورا پورا کر کے دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں بہترین وہ ہے جو پورا پورا دے اور اچھا دے۔
حدیث نمبر: 23525
٢٣٥٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا يونس ابن أبي إسحاق عن مجاهد قال: (اشترى) (١) مهرًا من أعرابي بمائة صاع من تمر، فقال النبي ﷺ (للرجل) (٢): "انطلق فقل (لهم) (٣): يأكلوا حتى يشبعوا، و (يكتالوا) (٤) حتى "يستوفوا" (٥)، -يعني الكيل-، فخرج الرجل وهو (يحك) (٦) (بمرفقيه) (٧) -يعني يشتد (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی سے سو صاع کھجور کے بدلے ایک بچھڑا خریدا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے فرمایا : لوگوں سے جا کر کہہ دو کہ پیٹ بھر کر کھاؤ اور جب تک وزن پورا نہ ہوجائے کیل کرتے رہو (یعنی کوئی چیز دینی ہو تو مکمل وزن کر کے دیا کرو) وہ شخص اس حال میں نکلا کہ اس نے کہنیوں کو ملایا ہوا تھا۔
حدیث نمبر: 23526
٢٣٥٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن أبي عبيدة قال: (حدثنا) (١) أبي عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي سعيد قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا قدست أمة لا يعطى الضعيف فيها حقه غير (متعتع) (٢) " (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ امت پاک نہیں کی جاتی جس میں ضعیف کو اس کا حق بغیر ٹال مٹول کے نہ دیا جائے۔