کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص غلام کو رہن رکھوا کر پھر اُس کو آزاد کر دے
حدیث نمبر: 23512
٢٣٥١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا إسرائيل عن مغيرة عن إبراهيم في رجل رهن عبدًا (فأعتقه) (١) قال: عتق العبد جائز، ويتبع المرتهن الراهن.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر راہن غلام کو رہن رکھ کر پھر آزاد کر دے تو غلام آزاد ہوجائے گا اور مرتہن راہن کے پیچھے لگ جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23512
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23512، ترقيم محمد عوامة 22533)
حدیث نمبر: 23513
٢٣٥١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: سألت الحسن بن صالح وشريكًا عن (الرجل) (١) يرهن عبده ثم يعتقه، قالا: عتقه جائز.
مولانا محمد اویس سرور
یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت حسن بن صالح اور حضرت شریک سے دریافت کیا کہ ایک شخص غلام رہن رکھوا کر پھر اس کو آزاد کر دے ؟ آپ نے فرمایا اس کا آزاد کرنا جائز ہے، اور حضرت شریک فرماتے ہیں غلام مرتہن کے قرض کے لئے کوشش کرے گا، اور حضرت حسن فرماتے ہیں کہ مرتہن کے لئے کوشش غلام کے ذمہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23513
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23513، ترقيم محمد عوامة 22534)
حدیث نمبر: 23514
٢٣٥١٤ - وقال: شريك يسعى العبد (للمرتهن) (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23514
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23514، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 23515
٢٣٥١٥ - وقال: الحسن بن صالح: ليس عليه سعاية.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23515
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23515، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 23516
٢٣٥١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عبد الملك عن عطاء في رجل اشترى من رجل عبدًا فلم يقبضه حتى أعتقه، قال: لا يجوز عتقه حتى (يقبضه) (١) أو ينقده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اگر ایک شخص نے دوسرے سے غلام خریدا ہے پھر اس سے قبضہ کرنے سے قبل اس کو آزاد کردیا، آپ نے فرمایا کہ قبضہ کرنے سے پہلے اس کو آزاد کرنا درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23516
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23516، ترقيم محمد عوامة 22535)
حدیث نمبر: 23517
٢٣٥١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: سمعت سفيان يقول: إذا أعتق الرجل عبده خرج من الرهن، وإذا دبره خرج من (الرهن) (١)، وإذا كانت أمة فوطئها فجاءت بولد خرجت من الرهن، وإن كان السيد موسرًا أتبع المرتهن السيد بالرهن، وإن كان معسرًا سعى هؤلاء في الأقل من قيمتهم والرهن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص غلام کو آزاد کر دے تو وہ رہن سے نکل جائے گا، اور اگر مدبر بنا دے تو بھی رہن سے نکل جائے گا ، اور اگر باندی ہو اور اس سے ہمبستری کرلے اور اس کا بچہ ہوجائے تو وہ بھی رہن سے نکل جائے گی، اور پھر اگر آقا مال دار ہو تو مرتہن آقا کو پکڑے گا اور اگر آقا غریب ہو تو یہ لوگ ( غلام اور باندی) قیمت اور رہن میں جس کی قیمت کم ہے اس کے لئے کوشش کریں گے، حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ پھر اس غلام سے جتنی سعی کی ہے اس کا اپنے آقا سے رجوع کرے گا (یعنی اس سے اتنے پیسے یا قیمت وصول کرے گا) لیکن ام ولد اور مدبر آقا سے رجوع نہیں کریں گے کیونکہ ان کی خدمت آقا کے لئے ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23517
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23517، ترقيم محمد عوامة 22536)
حدیث نمبر: 23518
٢٣٥١٨ - وقال سفيان: يرجع (العبد) (١) بما سعى فيه على المولى إذا أيسر، وأم الولد والمدبر لا يرجعان على مولاهما بشيء، لأن خدمتهما للمولى.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23518
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23518، ترقيم محمد عوامة ---)