حدیث نمبر: 23491
٢٣٤٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة وأبو معاوية عن الأعمش عن (شقيق) (١) عن مسروق عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "إذا أنفقت المرأة من بيت زوجها (غير مفسدة) (٢) كان (لها) (٣) أجرها، وله مثله بما اكتسب، ولها (بما) (٤) أنفقت، وللخازن مثل ذلك" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر عورت خاوند کے گھر سے صحیح طریقہ سے صدقہ کرے تو اس کا اجر اس کو ملے گا، اور خاوند کو کمائی کی مثل اور عورت کو خرچ کرنے کے مثل، اور خازن کو بھی اسی کے مثل اجر ملے گا، اور حضرت ابو معاویہ کی روایت میں اس کا اضافہ ہے کہ ان کے اجر میں کمی کیے بغیر۔
حدیث نمبر: 23492
٢٣٤٩٢ - زاد أبو معاوية: "من غير أن ينتقص من أجورهم شيئًا" (١).
حدیث نمبر: 23493
٢٣٤٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: (سألته) (١) امرأة (فقالت) (٢): يأتي المسكين أفأتصدق من مال زوجي بغير إذنه؟ فكرهه وقال لها: أله أن يتصدق بحليك بغير إذنك (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک خاتون نے دریافت کیا کہ ! میرے پاس مسکین آتا ہے کیا میں شوہر کی اجازت کے بغیر اس کے مال میں سے صدقہ کرسکتی ہوں ؟ آپ نے اس کو ناپسند فرمایا : اور اس کو کہا : کیا تو اپنے شوہر کو اجازت دے گی کہ وہ تیرا زیور تیری اجازت کے بغیر صدقہ کر دے ؟
حدیث نمبر: 23494
٢٣٤٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن أبي زائدة عن عبد الملك عن عطاء عن أبي هريرة قال: لا تصدق المرأة إلا من قوتها، فأما من مال زوجها فلا يحل لها إلا بإذنه، ويكون الأجر بينهما (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ خاتون اپنی غذا ( خوراک) کے علاوہ صدقہ نہ کرے، اور خاوند کے مال میں بغیر اجازت کے صدقہ کرنا حلال نہیں، اور (اگر کردیا تو ) ثواب دونوں کو ملے گا۔
حدیث نمبر: 23495
٢٣٤٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن أبي زائدة عن الصلت بن بهرام عن أم صالح أن امرأة قالت لعائشة: يصلح للمرأة أن تأخذ من بيت زوجها الشيء، بغير إذنه؟ فقالت: ما عليها إن فعلت ذلك أم نقبت بيت جارتها فسرقته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام صالح سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا : کیا عورت خاوند کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ اٹھا سکتی ہے ؟ اس کو کوئی فرق نہیں ہے خواہ اس طرح کرلے یا اپنے پڑوسی کے گھر میں نقب لگا کر چوری کرلے۔ (یعنی خاوند کا بلا اجازت استعمال کرنا اور پڑوس کے گھر میں چوری کرنا ایک برابر ہے)
حدیث نمبر: 23496
٢٣٤٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: جاءت هند إلى النبي ﷺ (فقالت) (١): يا رسول اللَّه إن أبا سفيان رجل شحيح فلا يعطيني ما يكفيني وولدي إلا ما أخذت من ماله وهو لا يعلم فقال: "خذي ما يكفيك وولدك بالمعروف" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت ہند نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! ابو سفیان بخیل انسان ہے اور مجھے اتنا نہیں دیتا جو میرے اور بچوں کے لئے کافی ہو ، پھر میں اس کے مال میں سے اس کی اجازت کے بغیر کچھ نکال لیتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو تیرے اور بچوں کے لئے کافی ہو اتنا اچھے طریقے سے لے لیا کرو۔
حدیث نمبر: 23497
٢٣٤٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إياس بن دغفل عن الحسن قال: جاء رجل إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه ما أمري وأمر (صاحبتي) (١)؟ (قال) (٢): "و (أي) (٣) أمركما؟ " قال: تصدق من بيتي بغير إذني، قال: (الأجر بينكما) قال: أرأيت إن (منعتها؟) (٤) قال: "لها ما (أحسنت) (٥) ولك ما بخلت (٦) به (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حسن سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا اور میری خاتون کا حکم ( معاملہ ) کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا تم دونوں کا کون سا معاملہ ؟ اس نے عرض کیا کہ وہ میرے گھر سے میری اجازت کے بغیر صدقہ کرتی ہے، آپ نے فرمایا ثواب دونوں کو ملے گا، اس نے عرض کیا کہ اگر میں اس کو اس سے روک لوں ؟ آپ نے فرمایا اس کو اس کا ثواب ملے گا جو اس نے ارادہ کیا اور تیرے لئے ( وبال ہے ) جو تو نے بخل سے کام لیا۔
حدیث نمبر: 23498
٢٣٤٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن يونس عن زياد بن جبير عن سعد قال: لما بايع النبي ﷺ النساء (قامت) (١) إليه امرأة جليلة كأنها من نساء (مضر) (٢) فقالت: يا رسول اللَّه إنا كَلٌّ على (آبائنا) (٣) وأزواجنا وأبنائنا، فما يحل لنا من أموالهم؛ قال: "الرَّطْب تأكلينه وتهدينه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد سے مروی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین سے بیعت لی تو ایک خاتون کھڑی ہوئی گویا کہ وہ مضر میں سے تھی، عرض کی اے اللہ کے رسول ﷺ! سب کچھ ہمارے والدین، شوہروں اور بیٹوں کے لئے ہے، ان اموال میں سے ہمارے لئے کیا حلال ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہر وہ تر چیز ( جس کو ذخیرہ نہیں کرسکتے ) اس کو کھاؤ بھی اور ہدیہ بھی کرو۔
حدیث نمبر: 23499
٢٣٤٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن شرحبيل بن مسلم قال: سمعت أبا أمامة الباهلي يقول: سمعت النبي ﷺ يقول في (حجته) (١) عام (حجة) (٢) الوداع: "لا تنفق امرأة شيئًا من بيت زوجها إلا بإذنه" قيل: يا رسول اللَّه ولا الطعام؟ قال: "ذلك أفضل أموالنا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو حجۃ الوداع میں فرماتے ہوئے سنا : کوئی بھی خاتون اپنے شوہر کے گھر سے اس کی اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے، پوچھا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ! کھانا بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ تو سب سے افضل مال ہے۔