حدیث نمبر: 23483
٢٣٤٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن حسن بن صالح عن ابن أبي ليلى وابن شبرمة وربيعة الرأي قالوا في (الرجلين) (١) يكون بينهما الكيس فيقول هذا: لي (بعضه) (٢)، و (يقول) (٣): هذا لي كله، قال ابن شبرمة: للذي قال هو لي كله: نصفه خالصًا، ويكون ما بقي بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلی، حضرت ابن شبرمہ اور حضرت ربیعۃ الرائی ایسے دو اشخاص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جن کے پاس ایک برس ہو ان میں ایک آدھے کا اور ددوسرا تمام بٹوے کا دعویٰ کر رہا ہو۔ حضرت ابن شبرمہ نے فرمایا جس نے کل کا دعویٰ کیا ہے آدھا تو خالص اس کا ہے، اور باقی آدھا ان دونوں کے درمیان نصف نصف ہوگا، حضرت ابن ابی لیلی نے فرمایا : ایک کو ایک تہائی اور دوسرے کو دو تہائی ملے گا، اور حضرت ربیعہ نے فرمایا وہ پورا دونوں کے درمیان آدھا آدھا ہوگا۔
حدیث نمبر: 23484
٢٣٤٨٤ - وقال ابن أبي ليلى: (الثلث والثلثان) (١).
حدیث نمبر: 23485
٢٣٤٨٥ - [وقال ربيعة: هو بينهما (نصفان) (١).
حدیث نمبر: 23486
٢٣٤٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث: رجلين بينهما مال، فادعى الواحد نصفه وادعى الآخر الثلثين، قال: يعطى صاحب] (١) الثلثين نصف المال؛ لأن صاحب النصف قد برئ من النصف، (ويعطى الذي يدعي النصف الثلث؛ لأن صاحب الثلثين قد برئ من الثلث) (٢)، وبقي سدس (وكلاهما) (٣) يدعيه فهو بينهما نصفين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث سے مروی ہے کہ دو شخصوں کے درمیان مال مشترک تھا، ان میں سے ایک نے نصف مال کا دعویٰ کیا، اور دوسرے نے دو تہائی کا، فرمایا : دو تہائی والے کو نصف مال ملے گا، کیونکہ جس نے نصف کا دعویٰ کیا ہے وہ دوسرے نصف سے بری ہوگیا ہے، اور جس نے آدھے کا دعویٰ کیا تھا اس کو ثلث دیں گے، کیونکہ دو ثلث والا ایک ثلث سے بری ہے، اور باقی چھٹا حصہ رہ گیا ہے، لہٰذا یہ دونوں کے مابین مشترک ہوگا۔