حدیث نمبر: 23472
٢٣٤٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (حماد) (١) بن خالد عن سفيان عن حماد أنه (كان يكره) (٢) أجر السمسار إلا بأجر معلوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد کمیشن ایجنٹ کا اجرت لینے کو ناپسند کرتے تھے ہاں مگر اجرت متعین ہو۔
حدیث نمبر: 23473
٢٣٤٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرزاق عن معمر عن (ابن طاوس عن) (١) أبيه قال: قلت لابن عباس: ما لا يبيع حاضر لباد؟ قال: لا يكون (٢) سمسارًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ شہری دیہاتی کو کیا کچھ نہیں بیچ سکتا ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ دلال (ایجنٹ) نہیں بن سکتا۔
حدیث نمبر: 23474
٢٣٤٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم ، ابراہیم اور حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ اگر نقد خریدے تو کمیشن ایجنٹ کی اجرت دینے میں کوئی حرج نہیں ۔
حدیث نمبر: 23475
٢٣٤٧٥ - وحماد عن إبراهيم وابن سيرين (قالوا) (١): لا بأس بأجر السمسار إذا اشترى يدًا بيد.
حدیث نمبر: 23476
٢٣٤٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ليث أبو عبد العزيز قال: سألت عطاء عن السمسرة، فقال: لا بأس بها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے کمیشن دینے کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا؛ اس میں کوئی حرج نہیں ۔
حدیث نمبر: 23477
٢٣٤٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: كان سفيان يكره السمسرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان کمیشن کو ناپسند کرتے تھے۔