کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جو حضرات چوری والے مال ( چیز) کے خریدنے کو ناپسند کرتے ہیں
حدیث نمبر: 23468
٢٣٤٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن هشام عن الحسن قال: إذا دخلت سوق (المسلمين) (١) (فاشتر) (٢) ما وجدت ما لم تعلم أنه خيانة أو سرقة.
مولانا محمد اویس سرور
حسن فرماتے ہیں کہ جب تم باز جاؤ تو جو ملے اس کو خرید سکتے ہو جب تک تم کو معلوم نہ ہوجائے کہ یہ شے چوری یا خیانت کی ہے (تب نہ خریدنی چاہیے) ۔
حدیث نمبر: 23469
٢٣٤٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مصعب بن محمد عن رجل من أهل المدينة قال: قال النبي ﷺ (١): "من اشترى سرقة وهو يعلم أنها سرقة فقد شرك في عارها وأثمها" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ، جس شخص کو معلوم ہو کہ یہ چوری کا مال ہے پھر بھی اس کو خرید لے تو وہ اس کی چوری اور گناہ میں شریک ہے۔
حدیث نمبر: 23470
٢٣٤٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الربيع عن ابن سيرين قال: قلت لعبيدة: أشتري السرقة، وأنا أعلم أنها سرقة؟ قال: لا، قلت: فأشتري الخيانة، و (أنا) (١) أعلم أنها خيانة؟ قال: لا، قلت: فأشتري نيل العمل (٢)؟ قال: وهل تستطيع تركه؟.
حدیث نمبر: 23471
٢٣٤٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن ابن سيرين عن عبيدة بمثله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبیدہ سے اسی طرح مروی ہے۔