حدیث نمبر: 23462
٢٣٤٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ابن جريج ⦗٢٤٥⦘ عن عطاء (قال) (١): لا تباع خدمة (المدبر) (٢) إلا من نفسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مدبر غلام کی خدمت کی بیع مت کرو ، مگر اپنے لئے۔ ( آقا خود خرید سکتا ہے۔ )
حدیث نمبر: 23463
٢٣٤٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) حماد بن زيد عن ابن أبي ذئب عن (قارظ) (٢) بن شيبة عن سعيد بن المسيب قال: لا بأس بخدمة المدبر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب فرماتے ہیں مدبر غلام کی خدمت کی بیع میں کوئی حرج نہیں ہے اور حضرت زہری بھی یہی فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 23464
٢٣٤٦٤ - وكان الزهري يقوله.
حدیث نمبر: 23465
٢٣٤٦٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حماد بن زيد عن أيوب السختياني ويحيى بن عتيق عن ابن سيرين قال: لا بأس ببيع خدمة المدبر من نفسه] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین فرماتے ہیں کہ مدبر غلام کی خدمت کو فروخت کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ اپنے لئے فروخت کرے۔
حدیث نمبر: 23466
٢٣٤٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن (١) يونس أن رجلين كان بينهما غلام (فأعتقاه) (٢) على أن يخدمهما ما (عاشا) (٣)، فاشترى أحدهما من الآخر نصيب صاحبه فسئل عن ذلك ابن سيرين فلم ير به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
یونس سے مروی ہے کہ دو آدمیوں کا ایک غلام تھا، انہوں نے اس کو اس شرط پر آزاد کیا کہ وہ ان کی خدمت کرے گا جب تک زندہ رہیں، پھر ان میں ایک نے اپنے ساتھی کا حصہ خرید لیا، پھر حضرت ابن سیرین سے اس کے متعلق دریافت کیا گیا آپ نے اس میں کوئی حرج نہ سمجھا۔
حدیث نمبر: 23467
٢٣٤٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن شعبة عن الحكم عن أبي جعفر قال: باع النبي ﷺ خدمة (مدبر) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مدبر غلام کی خدمت کو فروخت فرمایا۔