حدیث نمبر: 23456
٢٣٤٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن المسيب بن رافع الكاهلي عن (ابن) (١) مسعود قال: لا (تشتروا) (٢) السمك في الماء فإنه غرر (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پانی میں مچھلی کی بیع مت کرو یہ دھوکا ہے۔
حدیث نمبر: 23457
٢٣٤٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر -يعني ابن عياش- عن مغيرة عن إبراهيم أنه كره ضربة (البالة) (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم جال پھینک کر بیع کو ناپسند سمجھتے تھے۔ ( جال پھینکنے سے پہلے ہی یہ کہہ کر بیع کرنا کہ اس میں جتنی مچھلیاں آئیں ان کی بیع کرتا ہوں) ۔
حدیث نمبر: 23458
٢٣٤٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن (الزبير) (١) بن عدي عن إبراهيم أنه كره ضربة (الغائص) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم سے اسی طرح مروی ہے۔
حدیث نمبر: 23459
٢٣٤٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عامر وعطاء أنهم كرهوا بيع الآجام (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر، عامر اور حضرت عطاء رحمہ اللہ جھاڑیوں کی بیع کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 23460
٢٣٤٦٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان عن حماد عن إبراهيم أنه كره بيع الآجام] (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم جھاڑیوں کی بیع کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 23461
٢٣٤٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن حماد أن عمر ابن عبد العزيز رخص في (بيع) (١) الآجام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبد العزیز نے جھاڑیوں کی فروخت کی اجازت ( رخصت) دی تھی۔