حدیث نمبر: 23444
٢٣٤٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن يعقوب بن القعقاع عن معروف بن (سعد) (١) أن جابر بن زيد (استسلف) (٢) (حريرًا) (٣) في غرم أصابهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید نے ریشم ادھار لیا۔ اس تاوان کے بدلہ میں جو ان کو پہنچا۔
حدیث نمبر: 23445
٢٣٤٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: لا بأس بالعينة إذا كانت على وجه الصحة.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ ادھار بیع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اگر صحت کی شرائط پوری ہوں۔
حدیث نمبر: 23446
٢٣٤٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن الأعمش (١) عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم ، حضرت شعبی اور حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ ادھار مہنگا بیچنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23447
٢٣٤٤٧ - وعن سفيان عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي.
حدیث نمبر: 23448
٢٣٤٤٨ - و (١) سفيان عن جابر عن القاسم قالوا: لا بأس بالعينة.
حدیث نمبر: 23449
٢٣٤٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبد العزيز ابن (قُرَير) (١) قال: سئل ابن سيرين عن العينة قال: كان الرجل يخرج (متاعه) (٢) إلى السوق فيبيع بالنقد ويبيع بالنسيئة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے بیع عینہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ فرمایا جب آدمی اپنا سامان بازار میں لے کرجاتا ہے ، تو وہ کچھ سامان نقد فروخت کرتا ہے اور کچھ سامان ادھار۔
حدیث نمبر: 23450
٢٣٤٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (أبو) (١) كعب عبد ربه بن عبيد قال: سألت ابن سيرين عن بيع الحرير فقال: كان الرجل يشتري المتاع ثم يضعه، فإن وجد ربحا بالنقد باعه، وإن وجد ربحا بالنسيئة باعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے ریشم کی بیع ( ادھار) کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ نے فرمایا : جب آدمی سامان فروخت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو سامان رکھتا ہے پھر اگر اس کو نفع نقد مل رہا ہو تو بھی فروخت کردیتا ہے اور نفع ادھار میں مل رہا ہو پھر بھی فروخت کردیتا ہے۔
حدیث نمبر: 23451
٢٣٤٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد عن أفلح قال: قلت للقاسم: الرجل يطلب مني الحنطة والزيت وليس عندي، إلا أنه قد عرف (سعر ذلك) (١) (و) (٢) عرفته (فاشتريته) (٣) ثم أبيعه (إياه) (٤) إلى أجل؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت افلح فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت قاسم سے دریافت کیا کہ : ایک شخص مجھ سے گندم اور زیتون طلب کرتا ہے اور میرے پاس یہ دونوں نہیں ہیں لیکن میں ان کا بھاؤ جانتا ہوں اور ان کے متعلق جانتا ہوں میں خرید لیتا ہوں پھر میں اسی کو ایک مدت کے بعد فروخت کرسکتا ہوں ؟ فرمایا ہاں۔