کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو حضرات ربح مالم یضمن کے تناول کرنے کو ناپسند کرتے ہیں یعنی ایسے سامان کو فروخت کرنا جو اس نے خریدا تو ہو لیکن اُس پر قبضہ نہ کیا ہو تو ایسی بیع درست نہیں ہے اور ایسا نفع حلال نہیں ہے
حدیث نمبر: 23441
٢٣٤٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ قال: حدثنا حسين (١) (المعلم) (٢) عن قيس بن (سعد) (٣) عن مجاهد قال: قلت لعبد الرحمن بن أبي ليلى: ⦗٢٤٠⦘ (حدثنا) (٤) حديثًا تجمع لي فيه أبواب الربا، قال: لا (تأكل) (٥) شف (٦) شيء ليس (عليك) (٧) ضمانة.
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ سے عرض کیا کہ آپ مجھے وہ حدیث سنائیں جس میں آپ نے میرے لیے ربا کی اقسام کو جمع کیا ہے۔ جو آپ نے میرے لئے جمع کی ہو، آپ نے فرمایا کسی ایسی چیز کے نفع کو ہرگز مت کھانا جس کے نقصان کا تو ضامن نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23441
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23441، ترقيم محمد عوامة 22470)
حدیث نمبر: 23442
٢٣٤٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: بعث النبي ﷺ عتاب بن أسيد إلى أهل مكة فقال: " (تدري) (١) إلى أين بعثتك؟ بعثتك إلى أهل اللَّه"، ثم قال: "إنههم عن أربع: عن بيع وسلف، وعن شرطين في بيع، وعن ربح ما لم يضمن، وعن بيع ما ليس عندك" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو مکہ والوں کی طرف بھیجا اور فرمایا : تمہیں معلوم ہے میں نے تمہیں کہاں بھیجا ہے ؟ میں نے تمہیں اللہ والوں کے پاس بھیجا ہے، پھر فرمایا ان کو چار چیزوں سے منع کرنا ، بیع اور قرض سے، ایک بیع میں دو شرطیں لگانے سے ، اور اس شے کے نفع کو استعمال کرنے سے جس کے نقصان کا بھی وہ ضامن نہ ہو یعنی جب تک نفع و نقصان دونوں میں شرکت نہ ہو تو نفع بھی استعمال نہیں کرسکتے) سے اور اس چیز کی بیع سے جو پاس نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23442
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23442، ترقيم محمد عوامة 22471)
حدیث نمبر: 23443
٢٣٤٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن داود بن أبي هند عن عمرو ابن شعيب أن جده كان إذا بعث تجارة نهاهم عن: سلف وبيع، وعن شرطين في بيع وعن ربح ما لم يضمنوا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ ان کے دادا جب تجارت کا سامان بھیجتے تو ان کو منع کرتے بیع اور قرض سے، ایک بیع میں دو شرطیں لگانے سے، اور اس شے کے نفع کو استعمال کرنے سے جس کے نقصان کا بھی وہ ضامن نہ ہو یعنی جب تک نفع و نقصان دونوں میں شرکت نہ ہو تو نفع بھی استعمال نہیں کرسکتے) سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23443
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23443، ترقيم محمد عوامة 22472)