حدیث نمبر: 23415
٢٣٤١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن أبي زائدة عن أبي يعفور عن أيمن قال: سمعت يعلى يقول: سمعت النبي ﷺ يقول: "من أخذ أرضًا بغير حقها كلف أن يحمل ترابها إلى المحشر" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یعلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص کسی کی زمین پر ناحق قبضہ کرلے تو اس کو قیامت کے دن اس زمین کی ساری مٹی اٹھانے پر مجبور کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 23416
٢٣٤١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن هشام (بن) (١) عروة (عن أبيه) (٢) عن سعيد بن زيد قال: سمعت النبي ﷺ يقول: "من أخذ شبرا من الأرض ظلمًا فإنه يطوقه من سبع أرضين" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : کوئی شخص زمین کا ایک ٹکڑا ناحق لے لے، اس کو قیامت کے دن سات زمینوں کے برابر کر کے اس کے گلے میں طوق ڈالا جائے گا۔
حدیث نمبر: 23417
٢٣٤١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن إسماعيل عن أبي عمرو الشيباني قال: أُخبرت أنه: ما من أحد يسرق أرضًا (يكون) (١) (له) (٢) توبة ما وجد أرضًا (يحفرها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عمرو الشیبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی کہ بیشک نہیں ہے کوئی شخص جو کوئی زمین چرائے اس کے لئے توبہ ہوگی ، نہیں پائی کوئی زمین جو اس کے لئے کھودی جائے۔
حدیث نمبر: 23418
٢٣٤١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا خالد بن (مخلد) (١) عن سليمان بن بلال قال: حدثني محمد بن (عجلان) (٢) (عن أبيه) (٣) عن أبي هريرة قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أخذ شبرا من الأرض (طوقه) (٤) (٥) يوم القيامة من (سبع) (٦) أرضين" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ناحق زمین کا ٹکڑا لے لے تو قیامت کے دن سات زمینوں کا اس کے گلے میں طوق ڈالا جائے گا۔
حدیث نمبر: 23419
٢٣٤١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن منصور بن (حيان) (١) عن أبي الطفيل قال: كنت جالسًا عند علي فأتاه رجل فقال: هل كان النبي ﷺ (٢) (يسر) (٣) إليك؟ فغضب فقال: ما كان النبي ﷺ (٤) يسر إلي شيئًا، ⦗٢٣٤⦘ يكتمه الناس، غير أنه حدثني بأربع كلمات قال: (ما هن؟) (٥) قال: لعن اللَّه من لعن (والده) (٦)، ولعن اللَّه من ذبح لغير اللَّه، ولعن (اللَّه) (٧) من آوى محدثًا، ولعن اللَّه من غيّر منار الأرض (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو طفیل فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا، آپ کے پاس ایک شخص آیا اور عرض کیا، کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کچھ راز کی باتیں بتائی ہیں ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ غصہ میں آگئے اور فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایسی کوئی سرگوشی نہیں فرمائی جس کو لوگوں سے چھپایا ہو، سوائے اس کے کہ مجھے چار کلمات سکھلائے ہیں، اس نے عرض کی کیا وہ کون سے کلمات ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس پر اللہ کی لعنت جو والدین پر لعنت کرے، اور اس پر اللہ کی لعنت جو غیر اللہ کے نام پر ذ بح کرے ، اس پر اللہ کی لعنت جو فسادی کو ٹھکانہ دے، اور اس پر اللہ کی لعنت جو زمین کی ملکیت کو تبدیل کر دے۔
حدیث نمبر: 23420
٢٣٤٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (شريك) (١) عن عبد اللَّه (بن) (٢) (محمد) (٣) بن (عقيل) (٤) عن عطاء بن يسار عن أبي مالك الأشعري قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (أعظم) (٥) الغلول (عند) (٦) اللَّه يوم القيامة ذراع أرض يسرقها الرجل، (الرجلان) (٧) والجاران يكون بينهما الأرض فيسرق أحدهما من صاحبه فيطوقه من سبع أرضين" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بڑا دھوکہ یہ ہوگا کہ کسی شخص کی کچھ زمین دوسرا چرا لے، اور دو پڑوسیوں کے درمیان زمین مشترک ہو اور ان میں سے ایک ساتھی کی زمین پر قبضہ کرلے، پس ایسے شخص کے گلے میں سات زمینوں کا طوق ڈالا جائے گا۔
حدیث نمبر: 23421
٢٣٤٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص (عن) (١) طارق عن ابن ⦗٢٣٥⦘ سابط قال: لعن النبي ﷺ أربعة: من أهلَّ لغير اللَّه، ومن آوى محدثًا، ومن عن والديه، ومن سرق المنار، قال: قلت: وما المنار؟ قال: الرجل يأخذ من أرض صاحبه في أرضه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سابط فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے چار آدمیوں پر لعنت فرمائی، جو غیر اللہ کے نام پر قربانی کرے، جو فسادی کو ٹھکانہ دے، جو والدین کی نافرمانی کرے، اور جو منار کو چوری کرے، راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ منار سے کیا مراد ہے ؟ جو اپنے بھائی کی زمین لے کر اپنی زمین میں شامل کرلے۔
حدیث نمبر: 23422
٢٣٤٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمارة بن عمير عن مسروق قال: من ظلم شبرًا من الأرض فطوقته ذوات الأرض يوم القيامة لم تحمله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ جو شخص ناحق زمین پر قبضہ کرلے تو قیامت کے دن مالکان زمین اس کو طوق پہنائیں گے، جس کو وہ اٹھا نہ سکے گا۔
حدیث نمبر: 23423
٢٣٤٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن غريب (عن غريب) (١) قال: سمعت ابن عباس يقول: قال (رسول اللَّه) (٢) ﷺ: "الملعون من (انتقص) (٣) شيئًا من (تخوم) (٤) الأرض بغير حقه" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس پر لعنت ہے جو بغیر حق کے زمین کی گھاس وغیرہ میں سے کچھ کمی کر دے۔