کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سود کی حرمت کا بیان
حدیث نمبر: 23398
٢٣٣٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن (إبراهيم عن) (١) علقمة قال عبد اللَّه: آكل الربا وموكله سواء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سود کھانے والا اور کھلانے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23398
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23398، ترقيم محمد عوامة 22429)
حدیث نمبر: 23399
٢٣٣٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبد العزيز بن رفيع عن عبد اللَّه بن أبي مليكة عن عبد اللَّه بن حنظلة بن الراهب عن كعب الأحبار قال: لأن أزني ثلاثًا وثلاثين زنية أحب إلي من أكل درهم ربا يعلم اللَّه إني أكلته حين أكلته وهو ربا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تینتیس بار زنا کروں یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں سود کا ایک درہم کھاؤں۔ جب میں وہ سود کھاتا ہوں تو میرا اللہ جانتا ہے کہ میں سود کھا رہا ہوں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23399
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23399، ترقيم محمد عوامة 22430)
حدیث نمبر: 23400
٢٣٤٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن الحارث بن عبد اللَّه قال: قال عبد اللَّه: آكل الربا ومؤكله (سواء) (١) وكاتبه و (شاهده) (٢) إذا علموا به، والواشمة والمستوشمة للحسن، ولاوي الصدقة والمرتد أعرابيا بعد هجرته (ملعونون) (٣) على لسان محمد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں سود خور اور سود کھلانے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔ اور سودی معاملات لکھنے والا اور اس پر گواہ بننے والا جب وہ اس کے بارے میں جانتے ہوں، اور خوبصورتی کے لئے گودنے والی اور گودوانے والی خاتون اور صدقہ کو غلط استعمال کرنے والا۔ اور اعرابیوں میں سے جو ہجرت کے بعد مرتد ہوا اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے لعنت کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23400
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف الحارث.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23400، ترقيم محمد عوامة 22431)
حدیث نمبر: 23401
٢٣٤٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي هاشم عن رجل عن ابن عباس قال: غلقت عليكم أبواب الربا، فأنتم (تلتمسون) (١) محارمها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں تم پر سود کے تمام دروازے بند کر دئیے گئے ہیں۔ پس تم لوگ اس کی حرمت کو چاہتے ہو۔ ( طلب کرتے ہو۔ )
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23401
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23401، ترقيم محمد عوامة 22432)
حدیث نمبر: 23402
٢٣٤٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن مجالد عن الشعبي عن (ابن) (١) ⦗٢٢٨⦘ (عبد اللَّه) (٢) (عن علي) (٣) عن النبي ﷺ[قال: "لعن آكل الربا وموكله وكاتبه و (شاهداه) (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : سود کھانے والے پر ، کھلانے والے پر، اس کے معاملات لکھنے والے پر اور گواہوں پر لعنت کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23402
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف فيه علة؛ مجالد ضعيف؛ وابن نمير وهم فيه، وأخرجه أحمد (٦٣٥)، والنسائي ٨/ ١٤٧، وعبد الرزاق (١٠٧٩١)، والبزار (٨٢١)، وأبو يعلى (٤٥٢)، والطبراني في الأوسط (٧٥٦٣)، وفي الدعاء (٢١٦٨)، وابن عساكر ٦/ ١١١، والذهبي في السير ٤/ ١٥٥، والخطيب في التاريخ ١١/ ٤٢٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23402، ترقيم محمد عوامة 22433)
حدیث نمبر: 23403
٢٣٤٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع] (١) قال: حدثنا سفيان عن عمرو بن (مرة) (٢) عن مرة الهمداني قال: قال عمر: ثلاث (لأن) (٣) يكون رسول اللَّه ﷺ بينّهن لنا أحب إلي من (الدنيا) (٤) وما فيها: الخلافة والكلالة والربا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہارشاد فرماتے ہیں کہ تین چیزوں کو اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے لئے بیان فرما دیتے تو یہ دنیا و مافیھا سے زیادہ میرے لئے پسندیدہ ہوتا، ایک خلافت دوسری کلالہ (یعنی ایسی میت کہ جس کی نہ اولاد ہو اور نہ ہی والدین) اور تیسری چیز ہے سود۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23403
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23403، ترقيم محمد عوامة 22434)
حدیث نمبر: 23404
٢٣٤٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع) (١) حدثنا زكريا عن عامر قال: سمعت النعمان بن بشير يخطب و (أهوى) (٢) بإصبعه إلى أذنيه يقول: سمعت النبي ﷺ يقول: "الحلال بين والحرام بين، وبينهما أمور (مشتبهات) (٣) فمن اتقى الشبهات (استبرأ) (٤) لدينه (وعرضه) (٥)، ومن وقع في (الشبهات) (٦) وقع في الحرام كالراعي يرعى حول الحمى يوشك أن يرتع فيه، ألا إن لكل ملك حمى، وإن (حمى) (٧) اللَّه محارمه، ألا وإن في الجسد مضغة إذا صلحت صلح الجسد كله، وإذا فسدت فسد الجسد كله، ألا وهي القلب" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا اس حال میں کہ انہوں نے اپنی انگلیاں کانوں میں داخل کی ہوئیں تھیں، فرمایا میں نے نبی اکرم ﷺ سے ( ان کانوں سے خود ) سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : حلال بھی واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے اور ان کے درمیان کچھ چیزیں مشتبہ ہیں، جو شخص مشتبہات سے بچ گیا اس نے اپنے دین اور عزت کو صاف اور بری کردیا۔ اور جو شخص مشتبہات میں پڑا وہ حرام میں پڑا، جیسے چرواہا اگر چراگاہ کے ارد گرد جانوروں کو چرائے تو وہ کبھی نہ کبھی چراگاہ میں داخل ہوجائیں گے۔ خبردار ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے، اور اللہ کی چراگاہ اس کی حرام کردہ چیزیں ہیں، خبردار جسم میں ایک ٹکڑا ہے اگر وہ ٹھیک ہوجائے تو سارا جسم ٹھیک ہوجاتا ہے، اور اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے، سنو وہ انسان کا دل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23404
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ زكريا صرح بالتحديث عند أحمد (١٨٣٧٤)، وأخرجه البخاري (٥٢)، ومسلم (١٥٩٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23404، ترقيم محمد عوامة 22435)
حدیث نمبر: 23405
٢٣٤٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن ليث عن الحكم عن علي قال: لدرهم ربا أشد عند اللَّه (تعالى) (١) من ست وثلاثين زنية (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ سود کا ایک درہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی بدتر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23405
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ ليث صنعيف، والحكم لا يروي عن علي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23405، ترقيم محمد عوامة 22436)
حدیث نمبر: 23406
٢٣٤٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن عبد اللَّه بن سعيد (المقبري) (١) عن جده عن أبي هريرة أن النبي ﷺ قال: "الربا سبعون حوبًا، ⦗٢٣٠⦘ أيسرها نكاح الرجل أمه، وأربى الربا استطالة الرجل في عرض أخيه" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ سود کے ستر گناہ ہیں، ان میں سب سے کم درجہ ہے کہ آدمی اپنی ماں کے ساتھ زنا ( نکاح) کرے اور بڑا سود یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی آبرو میں دست درازی کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23406
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ عبد اللَّه بن سعيد متروك، أخرجه ابن ماجه (٢٢٧٤)، والبخاري في التاريخ ٥/ ٩٥، وابن الجارود (٦٤٧)، وابن عدي ٥/ ٢٧٥، والعقيلي ٢/ ٢٥٧، وابن الجوزي في الموضوعات (٢/ ١٥٣)، والبيهقي في الشعب (٥٢٠)، والمروزي في السنة (١٠٤)، وهناد في الزهد (١١٧٦)، وابن أبي الدنيا في الصمت (١٧٣)، والدينوري في المجالسة (١٥٩٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23406، ترقيم محمد عوامة 22437)
حدیث نمبر: 23407
٢٣٤٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أبي هانئ عن عامر قال: قرأت كتاب أهل نجران فوجدت فيه: إن أكلتم الربا فلا صلح بيننا وبينكم، وكان النبي ﷺ لا يصالح من يأكل الربا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ میں نے اہل نجران کے مکتوب میں پڑھا اس میں لکھا تھا، اگر تم لوگ سود کھاؤ گے تو تمہارے اور ہمارے درمیان کوئی صلح نہیں ، اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سود خوروں کے ساتھ صلح نہیں فرماتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23407
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ عامر تابعي، وأبو هانئ هو عمر بن بشير ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23407، ترقيم محمد عوامة 22438)
حدیث نمبر: 23408
٢٣٤٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن أشعث عن جعفر عن سعيد بن جبير: ﴿الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ﴾ [البقرة: ٢٧٥]، قال: يبعث يوم القيامة مجنونًا (يخنق) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ قرآن پاک کی آیت { الَّذِینَ یَأْکُلُونَ الرِّبَا لاَ یَقُومُونَ إلاَّ کَمَا یَقُومُ الَّذِی یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطَانُ مِنَ الْمَسِّ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ ان لوگوں کو قیامت کے دن مجنون اٹھایا جائے گا اور ان کا گلا گھونٹا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23408
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23408، ترقيم محمد عوامة 22439)
حدیث نمبر: 23409
٢٣٤٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا شعبة عن عون بن أبي جحيفة عن أبيه قال: لعن النبي ﷺ آكل الربا ومؤكله (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سود خود اور سود کھلانے والے پر لعنت فرمائی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23409
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٠٨٦)، وأحمد (١٨٧٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23409، ترقيم محمد عوامة 22440)
حدیث نمبر: 23410
٢٣٤١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن أشعث وداود عن الشعبي قال: خطب عمر فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: إنا نأمركم بأشياء لعلها لا تصلح لكم، وننهاكم عن أشياء لعلها (١) تصلح لكم، وإن آخر ما عهد إلينا النبي ﷺ ⦗٢٣١⦘ (آيات) (٢) الربا، فقبض النبي ﷺ (ولم) (٣) يبينهن (لنا) (٤)، إنما هو الربا (والريبة) (٥) فدعوا [ما يريبكم إلى ما لا يريبكم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمدو ثناء بیان کی پھر فرمایا : بیشک میں تمہیں کچھ چیزوں کا حکم دیتا ہوں شاید کہ وہ تمہارے لئے فائدہ مند نہیں ہیں اور تمہیں کچھ چیزوں سے روکتا ہوں شاید کہ وہ تمہارے لئے فائدہ مند ہیں، بیشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو آخری عہد ہم سے لیا وہ آیت ربا پر تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے پردہ فرما گئے اور ہمیں اس کی تفصیل بیان نہیں فرمائیں۔ بیشک یہ سود بھی ہے اور مشکوک بھی۔ لہٰذا مشکوک شے کو چھوڑ کر غیر مشکوک کو اختیار کرو۔ حضرت شعبی کسی چیز کے متعلق دریافت کیا گیا تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ سود اور مشکوک بھی ہے، لہٰذا سود اور مشک میں میں ڈالنے والی اشیاء کو چھوڑ دو ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23410
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23410، ترقيم محمد عوامة 22441)
حدیث نمبر: 23411
٢٣٤١١ - فكان الشعبي إذا سئل عن الشيء، قال: إنما هو الربا والريبة فدعوا] (١) (الربا) (٢) و (المريبات) (٣).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23411
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23411، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 23412
٢٣٤١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عيسى بن المغيرة الشعبي قال: قال عمر: لقد خفت أن يكون قد زدنا في الربا عشرة أضعافه مخافته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ ہم کہیں سود سے بچتے بچتے اس میں مزید دس گناہ آگے نہ نکل جائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23412
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23412، ترقيم محمد عوامة 22442)
حدیث نمبر: 23413
٢٣٤١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن حصين عن الشعبي قال: (دفع) (١) عبد اللَّه بن يزيد الأنصاري إلى غلام له أربعة آلاف، فلحق بأصبهان فاتجر حتى صارت عشرين ألفًا، ثم هلك، فقيل له: (إنه) (٢) كان (يقارف) (٣) الربا، ⦗٢٣٢⦘ فأخذ أربعة الاف وترك ما سوى ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن یزید انصاری نے اپنے غلام کو چار ہزار درہم دے کر بھیجا، وہ اصبھان گیا اور اس نے تجارت کی یہاں تک کہ اس کے پاس بیس ہزار درہم ہوگئے، پھر وہ غلام فوت ہوگیا، حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ وہ غلام تجارت میں سود کی آمیزش کرتا تھا، آپ رحمہ اللہ نے صرف چار ہزار واپس لئے اور باقی پیسے چھوڑ دئیے، نہیں لئے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23413
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23413، ترقيم محمد عوامة 22443)
حدیث نمبر: 23414
٢٣٤١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الأعمش عن عمارة عن عبد الرحمن بن يزيد قال: قال عبد اللَّه: الربا بضع وسبعون بابًا والشرك مثل ذلك (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سود کے ستر سے زیادہ دروازے ہیں اور شرک بھی اسی کے مثل ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23414
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23414، ترقيم محمد عوامة 22444)