حدیث نمبر: 23332
٢٣٣٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن عطاء أنه كان يكره تراب (الصواغين) (١) يعني شراءه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ سنار کی مٹی (زرگر کی مٹی ) کی بیع کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 23333
٢٣٣٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن هشام عن الحسن أنه كان يكره شراء تراب الصواغين إلا أن يشتري تراب الذهب بالفضة، وتراب الفضة بالذهب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ زرگر کی مٹی کی بیع کو ناپسند سمجھتے تھے۔ مگر یہ کہ سونے کی مٹی کو چاندی کے ساتھ اور چاندی کی مٹی کو سونے کے ساتھ فروخت کیا جائے۔
حدیث نمبر: 23334
٢٣٣٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن محمد بن أبي الجعد قال: سألت الشعبي عن شراء تراب الصواغين فكرهه وقال: هو غرر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن ابو جعد فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے زرگر کی مٹی کے خریدنے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے اس کی بیع کو ناپسند فرمایا اور فرمایا یہ دھوکہ ہے۔ حضرت محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میرے والد اس کو سامنے کے بدلے فروخت کرتے تھے۔ (بیع کرتے تھے )
حدیث نمبر: 23335
٢٣٣٣٥ - قال محمد: وبيان أبي (يشتريه) (١) بالعروض.
حدیث نمبر: 23336
٢٣٣٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حرمي بن (عمارة) (١) عن شعبة عن حماد عن إبراهيم قال: لا بأس أن يشتري تراب (الذهب) (٢) بالفضة وتراب الفضة بالذهب.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں، سونے کی مٹی کی بیع چاندی کے ساتھ اور چاندی کی مٹی کی سونے کے ساتھ بیع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔