کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کوئی شخص ( مدعی یا مدعی علیہ) قاضی سے گواہی دینے کا مطالبہ کریں
حدیث نمبر: 23328
٢٣٣٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن عياش عن سفيان (عن) (١) عمرو بن إبراهيم الأنصاري عن عمه الضحاك قال: اختصم رجلان إلى عمر بن الخطاب ادعيا (شهادته) (٢) فقال لهما عمر: إن شئتما شهدت ولم أقض (بينكما) (٣) وإن شئتما قضيت ولم أشهد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک سے مروی ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑاحضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے کر گئے، دونوں نے ان سے گواہی کا مطالبہ کیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : اگر تم چاہو تو میں گواہی دیتا ہوں مگر پھر میں فیصلہ نہیں کروں گا، اور اگر تم چاہو کہ میں فیصلہ کروں تو پھر میں گواہی نہیں دوں گا۔
حدیث نمبر: 23329
٢٣٣٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن عبد الأعلى قال: جاءت امرأة إلى شريح فأتته بشاهد، (قال) (١): ائتيني بشاهد آخر، (قالت) (٢): أنت شاهدي، فاستحلفها وقضى لها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد الأعلیٰ سے مروی ہے کہ ایک خاتون حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس ایک گواہ لے کر حاضر ہوئی، آپ نے فرمایا ایک گواہ اور لاؤ ۔ عورت نے کہا آپ میرے گواہ ہیں۔ آپ نے اس خاتون سے قسم لی اور اس کے حق میں فیصلہ فرما دیا۔
حدیث نمبر: 23330
٢٣٣٣٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن إسماعيل بن سالم الشعبي [قال: لا أجمع أن أكون قاضيًا وشاهدًا] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں دونوں کو اکٹھا نہیں کرتا کہ میں قاضی بھی بنوں اور گواہ بھی۔
حدیث نمبر: 23331
٢٣٣٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن (ابن) (١) شبرمة عن الشعبي] (٢) قال: سألته عن رجل كان له على رجل (مال) (٣)، فأشهد (٤) شاهدين فاستقضى أحد الشاهدين، فقال الشعبي: جاء رجل إلى شريح يخاصم وأنا جالس (معه) (٥)، فجاء الآخر عليه بشاهد، ثم قال لشريح: أنت تشهد لي، فقال شريح: أئت (الأمير) (٦) حتى أشهد لك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کا مال دوسرے کے ذمہ تھا۔ اس نے دو گواہ پیش کر دئیے۔ پھر دو گواہوں میں سے ایک سے فیصلہ کروانا چاہا ؟ پھر دوسرا شخص آیا اس کے ساتھ ایک گواہ تھا، اس نے حضرت شریح رحمہ اللہ سے کہا : آپ میرے حق میں گواہی دیں، حضرت ت شریح رحمہ اللہ نے فرمایا : امیر کو بلا کر لاؤ ۔ تاکہ میں گواہی دے سکوں (یعنی پھر میں قاضی یا فیصل نہیں بنوں گا)