کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص اپنے غلام سے یوں کہے: اگر تو میرے قرض خواہ سے علیحدہ ہوا تو، تو آزاد ہے
حدیث نمبر: 23325
٢٣٣٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل (بن) (١) يوسف عن عمرو أن رجلا ⦗٢٠٦⦘ قال لغلامه: الزم فلانًا فإن (فارقته) (٢) فأنت حر، فقال: اشهدوا أني قد فارقته، فرفع ذلك إلى عمر بن عبد العزيز وهو أمير مكة فأجاز عتقه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے غلام سے کہا، فلاں کے ساتھ رہ اور اگر تو اس سے جُدا ہوگیا تو آزاد ہے، غلام نے کہا گواہ رہو میں اس سے جدا ہوگیا تھا۔ معاملہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پاس گیا جو اس وقت مکہ کے امیر تھے۔ آپ نے اس کی آزاد ی کا فیصلہ فرما دیا۔ فرمایا : حسن رحمہ اللہ بھی یہی رائے رکھتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23325
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23325، ترقيم محمد عوامة 22359)
حدیث نمبر: 23326
٢٣٣٢٦ - قال: فكان الحسن يرى ذلك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23326
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23326، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 23327
٢٣٣٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد قال: بلغني أن عمر بن عبد العزيز قال: لا يعتق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز فرماتے تھے وہ غلام آزاد نہ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23327
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23327، ترقيم محمد عوامة 22360)