کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: غلام دو شخصوں کے درمیان مشترک ہو پھر اُن میں سے ایک اُس کو آزاد کر دے
حدیث نمبر: 23245
٢٣٢٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن يزيد بن عبد الرحمن (الدالاني) (١) عن إبراهيم (الصائغ) (٢) عن نافع عن ابن عمر في عبد بين اثنين فأعتق أحدهما نصيبه، قال: عليه أن يعتق بقيته، فإن لم يكن عنده سعى العبد في بقية (ثمنه) (٣)، وكانوا شركاء في الولاء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ غلام دو شخصوں کے درمیان مشترک ہو پھر ان میں سے ایک اس کو آزاد کر دے تو فرماتے ہیں کہ اس پر لازم ہے کہ باقی غلام کو بھی آزاد کرے (خرید کر) اگر اس کے پاس کچھ نہ ہو تو غلام اپنی گردن کے بدلہ میں سعی کرے۔ پھر وہ دونوں اس غلام کی ولاء میں شریک ہوں گے۔
حدیث نمبر: 23246
٢٣٢٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن قال: إن كان موسرًا ضمن، وكان الولاء له، وإن كان معسرًا سعى العبد، وكان الولاء بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آزاد کرنے والا مالک اگر مالدار ہے تو ساتھی کے لئے قیمت کا ضامن ہوگا اور غلام کی ولاء اسی کو ملے گی۔ اور اگر وہ غریب ہے تو غلام خود کوشش کرے گا ( بقیہ قیمت کی ) اور ولاء ان دونوں کو ملے گی۔
حدیث نمبر: 23247
٢٣٢٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن زكريا عن عامر قال: يسعى العبد والولاء يكون للذي أعتق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام دوسرے مالک کے لئے قیمت میں خود کوشش کرے گا، اور ولاء اس کو ملے گی جس نے اس کو آزاد کیا ہے۔
حدیث نمبر: 23248
٢٣٢٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد في عبد كان بين رجلين فأعتقه أحدهما قال: الولاء بينهما -يعني- إذا استسعي العبد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد سے مروی ہے کہ اگر غلام دو مالکوں کے درمیان مشترک ہو اور ان میں سے ایک اس کو آزاد کر دے تو غلام دوسرے کے لئے قیمت میں کوشش کرے گا اور ولاء دونوں کو ملے گی۔
حدیث نمبر: 23249
٢٣٢٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر عن علي بن صالح عن مغيرة عن إبراهيم قال: الولاء للذي أعتق، (سعى) (١) العبد أو لم يسع (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں غلام قیمت میں کوشش کرے یا نہ کرے ولاء اسی کو ملے گی جس نے آزاد کیا ہے۔