حدیث نمبر: 23233
٢٣٢٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الشعبي قال: إذا اشترى الرجل الجارية عنده وبها عيب وحدث بها عيب آخر، قال: أبطل الآخر الأول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ایسی باندی خریدے جس میں عیب ہو، اور مشتری کے پاس آ کر اس میں ایک اور عیب پیدا ہوجائے تو دوسرا عیب پہلے عیب کو باطل کر دے گا ( اس کو واپس کرنے کا اختیار نہیں ہے) ۔
حدیث نمبر: 23234
٢٣٢٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كان يقول: إذا حدث عنده (داء) (١) غير الذي دلس له، فإنه يمضي (عنده) (٢) ويضع عنه ما يضع ذلك (الداء) (٣) من ثمنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس میں کوئی نئی بیماری پیدا ہوجائے جو اس کے علاوہ ہو جو اس سے چھپائی گئی تھی تو بیماری کی وجہ سے جتنے پیسے کم کیے جاتے ہیں وہ کم کر دے گا۔
حدیث نمبر: 23235
٢٣٢٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: كان يقال: (رد) (١) الداء بدائه، فإن حدث عيب فهو من مال المشتري، ويرد البائع (قيمة) (٢) (العيب) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بیماری کو بیماری کے بدلے واپس کردیا جائے گا، اور اگر نیا عیب پیدا ہوجائے تو وہ مشتری کے مال میں شمار ہوگا، اور بائع مشتری کو عیب کی قیمت واپس کرے گا۔
حدیث نمبر: 23236
٢٣٢٣٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن هشام عن ابن سيرين قال: هو من مال المشتري، ويرد البائع قيمة العيب] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ مشتری کے مال میں سے شمار ہوگا اور بائع عیب کی قیمت واپس کرے گا۔