کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: یہودی، نصرانی اور غلام کی گواہی دینا
حدیث نمبر: 23220
٢٣٢٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن معمر عن الزهري وقتادة قالا: أهل الكتاب والعبد والصبي إذا كانت عندهم شهادة فأسلم أهل الكتاب و (عتق) (١) العبد وشب الصبي فشهادتهم جائزة [إلا أن تكون ردت وهم كذلك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری اور قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر اہل کتاب ، غلام اور بچہ گواہ ہوں پھر اہل کتاب مسلمان ہوجائے اور غلام آزاد ہوجائے اور بچہ بڑا ہوجائے تو ان کی گواہی دینا درست ہے، ہاں اگر ان کی پہلی والی حالت میں گواہی رد کردی گئی ہو تو پھر جائز نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23220
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23220، ترقيم محمد عوامة 22262)
حدیث نمبر: 23221
٢٣٢٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن الزهري في العبد] (١) يشهد بالشهادة فيرد ثم يعتق، قال: لا (يجوز) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام اگر غلامی میں گواہی دے اور اس کی گواہی رد کردی جائے پھر وہ آزاد ہوجائے تو پھر اس کی گواہی ( اسی معاملہ میں جس میں پہلے رد کردی گئی تھی) درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23221
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23221، ترقيم محمد عوامة 22263)
حدیث نمبر: 23222
٢٣٢٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ عن أشعث عن الحسن أنه كان يقول في العبد والذمي إذا (شهدا) (١) فردت (شهادتهما) (٢)، ثم (عتق) (٣) هذا وأسلم هذا: (أنهما) (٤) تجوز (شهادتهما) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غلام اور ذمی اگر گواہی دیں اور ان کی گواہی رد کردی جائے پھر غلام آزاد ہوجائے اور ذمی مسلمان ہوجائے تو ان کی گواہی درست ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23222
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23222، ترقيم محمد عوامة 22264)
حدیث نمبر: 23223
٢٣٢٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن إبراهيم قال: إذا شهد العبد فردت شهادته ثم أعتق قال: لا تجوز.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام گواہی دے اور اس کی گواہی رد کردی جائے، پھر وہ آزاد ہوجائے، تو پھر اس کی وہ گواہی معتبر نہیں، جبکہ حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کی گواہی درست ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23223
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23223، ترقيم محمد عوامة 22265)
حدیث نمبر: 23224
٢٣٢٢٤ - وقال الحكم: تجوز.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23224
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23224، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 23225
٢٣٢٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن (أبي) (١) عوانة عن عمر بن ⦗١٨٤⦘ (أبي) (٢) سلمة عن أبيه قال: إذا شهد العبد فردت شهادته ثم (أعتق) (٣) فإنها لا تجوز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سلمہ فرماتے ہیں کہ غلام اگر گواہی دے اور اس کی گواہی رد کردی جائے پھر آزاد ہوجائے تو اس کی گواہی معتبر نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23225
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23225، ترقيم محمد عوامة 22266)
حدیث نمبر: 23226
٢٣٢٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن قتادة عن شريح أنه (قال) (١): إذا شهد العبد فردت شهادته ثم أعتق قال: (٢) لا تجوز.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر غلام گواہی دے اور اس کی گواہی رد کردی جائے پھر وہ آزاد ہوجائے تو اس کی گواہی معتبر نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23226
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23226، ترقيم محمد عوامة 22267)
حدیث نمبر: 23227
٢٣٢٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي قال: حدثنا حماد بن سلمة عن عبد الكريم عن عمرو بن شعيب وعطاء أن عمر بن الخطاب قال في اليهودي والنصراني والعبد: [إذا شهدوا شهادة لم (يقيموها) (١) حتى يعتق ويسلم اليهودي] (٢)، فشهادتهم جائزة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہودی، نصرانی اور غلام کی گواہی کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب انہوں نے کوئی گواہی دی جس کو وہ قائم نہ کرسکے (یعنی دو ہوگئی) یہاں تک کہ غلام آزاد ہوگیا اور یہودی اور نصرانی مسلمان ہوگئے تو ان کی گواہی جائز ہوگی تو ان کی گواہی درست ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23227
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع؛ لضعف عبد الكريم، وعطاء وعمرو ولم يدركا عمر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23227، ترقيم محمد عوامة 22268)