کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کوئی شخص اس شرط پر باندی خریدے کہ اِس کو فروخت یا ہبہ نہیں کرے گا
حدیث نمبر: 23116
٢٣١١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي قال: ابتعت جارية وشرط عليَّ أهلها أن لا أبيع ولا أهب ولا أمهر، فإذا مت فهي حرة، فسألت الحكم بن (عتيبة) (١) فقال: لا بأس به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اوزاعی سے مروی ہے کہ میں نے ایک باندی خریدی اور اس کے اہل نے مجھ پر شرط لگائی کہ میں اس کو فروخت نہیں کروں گا ، اور نہ ہی ہبہ کروں گا اور نہ ہی مہر میں دوں گا، اگر میں مر جاؤں تو وہ آزاد ہے، میں نے حضرت حکم بن عتیبہ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں، میں نے حضرت مکحول رحمہ اللہ سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں ، میں نے عرض کیا : آپ کو مجھ پر اندیشہ ہے ؟ فرمایا کیوں نہیں، میں آپ کے لیے دو اجروں کی امید کرتا ہوں۔ میں نے حضرت عطاء رحمہ اللہ سے دریافت کیا ؟ تو انہوں نے اس کو ناپسند سمجھا۔ حضرت اوزاعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بیع کرنا جائز ہے اور یہ شرط لگانا باطل ہے، میں نے حضرت عبدہ بن ابو لبابہ سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : یہ بُری شرمگاہ ( چیز) ہے۔ میں نے زہری سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے خط کے ذریعہ اس باندی کا حکم پوچھا جو انہوں نے اپنی بیوی سے اس شرط پر خریدی تھی کہ اگر میں اس کو بیچوں تو اس کی قیمت کی حق دار تم ہوگی۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ تو ایسی فرج سے ہمبستری نہیں کرسکتا جس میں غیر کا بھی حق ہو۔
حدیث نمبر: 23117
٢٣١١٧ - وسألت (مكحولًا) (١)، [فقال: لا بأس به، قلت: تخاف (عليَّ منه) (٢)؟ فقال: (بل) (٣) أرجو لك فيه أجرين.
حدیث نمبر: 23118
٢٣١١٨ - وسألت] (١) عطاء أو سئل فكرهه.
حدیث نمبر: 23119
٢٣١١٩ - قال الأوزاعي: فحدثني يحيى بن أبي كثير عن الحسن قال: البيع جائز و (الشرط) (١) باطل.
حدیث نمبر: 23120
٢٣١٢٠ - وسألت عبدة بن أبي (لبابة) (١) فقال: (هذا) (٢) فرج (سوء) (٣).
حدیث نمبر: 23121
٢٣١٢١ - وسألت الزهري (فأخبرني) (١) أن ابن مسعود كتب إلى عمر يسأله عن جارية ابتاعها من (امرأته) (٢) (على) (٣) أنه إن باعها فهي أحق بها بالثمن، فقال عمر: لا تطأ فرجًا فيه (شيء) (٤) لغيرك (٥).
حدیث نمبر: 23122
٢٣١٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع وابن أبي زائدة عن مسعر عن القاسم قال: قال عمر: ليس من مالك ما كان فيه (مثنوية) (١) لغيرك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : وہ تیرے مال میں سے نہیں ہے، جس میں تیرے غیر کا بھی دوہرا حصہ ہو۔
حدیث نمبر: 23123
٢٣١٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن (عبيد اللَّه) (١) عن القاسم عن عائشة أنها كرهت أن تباع الجارية بشرط (٢) أن لا تباع (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ناپسند فرماتی ہیں کہ باندی کو اِ س شرط کے ساتھ فروخت کیا جائے کہ اس کو آگے فروخت نہیں کریں گے۔
حدیث نمبر: 23124
٢٣١٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن حرب عن (خصيف) (١) عن سعيد بن جبير في الرجل يشتري الجارية على أن لا يبيع ولا (يهب) (٢)، قال: لا يقربها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص اس شرط پر باندی خریدتا ہے کہ اس کو فروخت یا ہبہ نہیں کرے گا، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا وہ اس کے قریب نہیں آئے گا۔
حدیث نمبر: 23125
٢٣١٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن هشام ابن عروة عن أبيه أنه كرهها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ اس کو ناپسند فرماتے تھے۔
حدیث نمبر: 23126
٢٣١٢٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه بن عمر عن نافع عن ابن عمر أنه كان يقول: لا (يطأ) (١) فرجا فيه] (٢) شرط (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایسی شرمگاہ میں ہمبستری نہ کرو جس میں کوئی شرط ہو۔
حدیث نمبر: 23127
٢٣١٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن الحسن بن عبيد اللَّه عن إبراهيم في الرجل يشتري الجارية على أن لا يبيع ولا يهب، قال: ليس بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص اس شرط پر باندی خریدے کہ اس کو فروخت یا ہبہ نہیں کرے گا، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : یہ کوئی چیز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23128
٢٣١٢٨ - (حدثنا أبو بكر) (١) قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن إسماعيل بن أبي (خالد) (٢) عن الشعبي في الرجل يشتري الجارية على أن لا يبيع (ولا يهب) (٣) ولا يمهر، قال: وددت أني وجدتها فاشتريتها بهذا الشرط (واشترط) (٤) (لهم) (٥) أنها عتيق إذا مت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص اس شرط پر باندی خریدے کہ اس کو فروخت یا ہبہ یا مہر میں نہیں دے گا، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میں اس کو پالوں، میں اس کو شرط کے ساتھ خرید لوں گا، اور ان کے لئے شرط لگاؤں گا کہ جب میں مر جاؤں تو یہ آزاد ہے۔
حدیث نمبر: 23129
٢٣١٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث عن الحكم عن إبراهيم أنه قال: كل شرط في بيع يهدمه البيع إلا العتاق، وكل شرط في نكاح يهدمه النكاح إلا الطلاق.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ شرط جو بیع میں لگائی جائے وہ اس کو گرا دیتی ہے سوائے عتاق کے، اور ہر وہ شرط جو نکاح میں لگائی جائے اس کو نکاح گرا دیتا ہے سوائے طلاق کے۔
حدیث نمبر: 23130
٢٣١٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي قال: أتت امرأة فقالت: إن ابنتي اشتريت على أن لا تباع قال: ابنتك على شرطها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ کے پاس ایک خاتون آئی اور عرض کیا کہ میری بیٹی کو اس شرط پر خریدا گیا ہے کہ اس کو فروخت نہیں کیا جائے گا، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا تیری بیٹی کی شراء کی شرط پر ہے (یعنی جو شرط شراء کے وقت لگائی ہے اسی پر ہوگی) ۔
حدیث نمبر: 23131
٢٣١٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا جعفر بن برقان عن الزهري عن عبيد اللَّه بن (عبد اللَّه بن) (١) عتبة أن ابن مسعود اشترى من (زوجته) (٢) زينب جارية (واشترطت) (٣) عليه إن باعها فهي أحق بها بالثمن، فسأل ابن مسعود عمر فكره أن يطأها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی سے باندی خریدی ، اس نے آپ پر شرط لگا دی کہ اگر اس کو فروخت کیا تو وہ اس کے ثمن کی زیادہ حق دار ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے ہمبستری کرنے کو ناپسند کیا۔ ۔
حدیث نمبر: 23132
٢٣١٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن عمران (بن عمير) (١) أن (٢) عمر قال: (لعبد اللَّه) (٣): لا يقربها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا : اس کے قریب مت جاؤ۔