کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: مسلمانوں میں عدالت کیا ہے؟
حدیث نمبر: 23111
٢٣١١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن (منصور) (١) عن إبراهيم قال: ⦗١٥٨⦘ العدل في المسلمين: (من) (٢) لم يطعن عليه في بطن ولا فرج.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں عدل یہ ہے کہ اس پر ظاہر و باطن میں طعن نہ ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23111
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23111، ترقيم محمد عوامة 22163)
حدیث نمبر: 23112
٢٣١١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن صالح (بن) (١) حي عن عامر قال: تجوز شهادة الرجل المسلم ما لم يصب حدا، أو (تعلم) (٢) عليه (خِرْبة) (٣) في دينه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک آدمی پر حَدْ نہ لگی ہو یا اس کے دین میں کوئی عیب نہ معلوم ہو اس کی گواہی دینا ٹھیک ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23112
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23112، ترقيم محمد عوامة 22164)
حدیث نمبر: 23113
٢٣١١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن عوف عن الحسن أنه كان يجيز شهادة من صلى إلا أن يأتي الخصم بما يجرحه به.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ نمازی آدمی کی گواہی کو جائز سمجھتے تھے۔ الاّ یہ کہ اس کا خصم کوئی ایسی علت لے آئے جس سے عدالت میں پر جرح ہوسکتی ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23113
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23113، ترقيم محمد عوامة 22165)
حدیث نمبر: 23114
٢٣١١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن حبيب قال: سأل عمر رجلا عن رجل فقال: لا (نعلم) (١) إلا خيرًا، فقال: عمر حسبك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دوسرے شخص کے متعلق دریافت کیا ؟ اس نے کہا کہ میں نے تو خیر ہی دیکھی ہے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا یہی تعدیل تمہارے لئے کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23114
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23114، ترقيم محمد عوامة 22166)
حدیث نمبر: 23115
٢٣١١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن ابن عون عن محمد قال: قال شريح: (ادع) (١) وأكثر و (اطنب) (٢) وائت على ذلك بشهود (عدل) (٣) فإنا قد أمرنا (بالعدل) (٤)، وائت فسل عنه، فإن قالوا: اللَّه أعلم، فاللَّه أعلم (٥) ⦗١٥٩⦘ (يَفْرقُوا) (٦) أن يقولوا: هو مريب (ولا) (٧) تجوز شهادة مريب، (فإن) (٨) قالوا: ما علمناه (إلا) (٩) (عدلًا مسلمًا) (١٠) فهو إن شاء اللَّه كذلك، وتجوز شهادته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے دعویٰ کرو پھر اس میں زیادتی کرو اور خوب زیادتی طلب کرو، اور پھر اس پر عادل گواہ قائم کرو، بیشک ہمیں عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اور آپ ان سے سوال کریں، اگر وہ لوگ کہیں کہ اللہ اعلم، تو اللہ زیادہ جاننے والا ہے، اور وہ اگر الگ الگ ہو کر یوں کہیں کہ وہ شکِّی ہے ( شک میں ہے ) تو شک والے کی گواہی معتبر نہیں، اور اگر وہ کہیں کہ : ہمیں نہیں معلوم اس کے بارے میں مگر یہ عادل اور مسلمان ہے تو پھر وہ ان شاء اللہ اسی طرح ہے اور اس کی گواہی معتبر ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23115
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23115، ترقيم محمد عوامة 22167)