کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص کسی کے پاس رہن رکھواتے ہوئے یوں کہے کہ اگر میں تیرے پاس رہن چھڑوانے نہ آیا تو یہ چیز تیری
حدیث نمبر: 23092
٢٣٠٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص (عن) (١) موسى (بن) (٢) عبيدة (عن) (٣) عبد اللَّه بن (دينار) (٤) عن ابن عمر أنه سئل (عن) (٥) الرجل يرهن الرهن فيقول: إن (لم) (٦) أجئك به إلى كذا وكذا فهو لك، قال: ليس (له ذلك) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص دوسرے کے پاس رہن رکھواتا ہے اور یوں کہتا ہے کہ اگر میں تیرے پاس اتنے اتنے نہ لے کر آیا تو یہ تیری ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ اس کی نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23092
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال موسى بن عبيدة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23092، ترقيم محمد عوامة 22145)
حدیث نمبر: 23093
٢٣٠٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم في (الرجل) (١) يرهن (عنده) (٢) الرجل (الرهن) (٣) فيقول: إن لم آتك به إلى كذا وكذا فهو (لك) (٤)، قال: الرهن لا يغلق، وإن (قال: إن) (٥) لم آتك به إلى ⦗١٥٣⦘ كذا وكذا فبعه و (اقتض) (٦) الذي لك، قال: لا (يكون) (٧) أمين نفسه ولا (يبعه) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک شخص دوسرے کے پاس رہن رکھواتے ہوئے یوں کہے کہ اگر میں تیرے پاس اتنے اتنے نہ لے کر آیا تو یہ چیز تیری۔ آپ نے فرمایا : مقررہ چیز ادا نہ کرسکنے کی صورت میں مرتہن اس کا مالک نہیں ہوتا۔ اور اگر وہ رہن رکھتے وقت یوں کہہ دے کہ اگر میں تیرے پاس اتنے اتنے نہ لے کر آیا تو اس کو فروخت کر کے جتنے تیرے بنتے ہیں وہ پورے کرلے۔ آپ نے فرمایا : اپنے نفس کا امین نہیں ہوگا۔ وہ اس کو فروخت نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23093
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23093، ترقيم محمد عوامة 22146)