کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: دو آدمی کسی سامان کے مالک ہوں ان میں سے ایک کو دس درہم اور دوسرے کو نو درہم میں ملے ہوں
حدیث نمبر: 23086
٢٣٠٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن خالد عن ابن سيرين أنه قال في ثوب بين رجلين: نصفه على أحدهما بعشرين، ونصفه على الآخر (بعشرة) (١)، قالا: إن (باعاه) (٢) مساومة أو مرابحة فهو نصفان بينهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین سے مروی ہے کہ ایک کپڑا دو آدمیوں کے درمیان مشترک تھا ، ان میں سے ایک نے نصف بیس درہم میں اور دوسرے نے نصف دس درہم میں خریدا ۔ فرمایا اگر وہ دونوں اس کو مساومۃ اور مرابحۃً فروخت کریں تو منافع ان کے درمیان آدھا آدھا ہوگا۔
حدیث نمبر: 23087
٢٣٠٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن الشعبي ⦗١٥١⦘ والحكم في رجلين اشتريا سلعة، (اشترى) (١) أحدهما نصفها بعشرين، واشترى الآخر نصفها بعشرة، فقال الشعبي: إن (باعاها) (٢) (مرابحة فعلى رؤوس أموالهما وإن باعاها) (٣) مساومة فالنصف والنصف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ اور حضرت حکم رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ دو آدمیوں نے مل کر ایک سامان خریدا، ایک نے آدھا بیس درہم میں اور دوسرے نے آدھا دس درہم میں خریدا، حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ اس سامان کو مرابحۃً فروخت کریں تو نفع رأس المال کے اعتبار سے ہوگا اور اگر وہ مبیع مساومۃ کے اعتبار سے فروخت کریں تو منافع نصف نصف ہوگا۔ اور حضرت حکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں منافع آدھا آدھا ہوگا۔
حدیث نمبر: 23088
٢٣٠٨٨ - (و) (١) قال الحكم: هو بينهما (نصفان) (٢).
حدیث نمبر: 23089
٢٣٠٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن حماد بن سلمة عن زياد الأعلم عن الحسن قال: إن (باعاها) (١) مرابحة فالربح على رأس المال، وإن (باعاها) (٢) مساومة فهو بينهما (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ اس کو مرابحتہً فروخت کریں تو منافع رأس المال کی بقدر ہوگا، اور اگر بیع مساومۃً کے ساتھ فروخت کریں تو منافع آدھا آدھا ہوگا۔ حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح فرماتے ہیں۔
حدیث نمبر: 23090
٢٣٠٩٠ - وعن قتادة مثل ذلك.
حدیث نمبر: 23091
٢٣٠٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الصمد بن عبد الوارث عن جرير بن حازم قال: سئل (حماد) (١) عن سلعة بين رجلين يقوم على أحدهما بأكثر مما يقوم على الآخر، قال: الربح على قدر رؤوس أموالهما.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد سے دریافت کیا گیا کہ ایک سامان دو شخصوں کے درمیان مشترک ہے ۔ ایک کو دوسرے سے زیادہ قیمت میں پڑا ہے۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا نفع رأس المال کی بقدر ملے گا۔