حدیث نمبر: 23028
٢٣٠٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن قابوس عن أبيه عن ابن عباس قال: لا ترفعها من الأرض، فلست منها في شيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ زمین سے کوئی چیز مت اٹھاؤ کیوں کہ اس میں تیرا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23029
٢٣٠٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن سليمان عن أبيه أن مجاهدًا وابن عمر كانا يطوفان بالبيت فوجدا حُقّة (١) فيها جوهر فلم يعرضا (لها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے ، اُن دونوں نے ایک برتن پایا جس میں جواہرات تھے۔ اُن دونوں حضرات نے اس کی طرف توجہ نہ دی۔
حدیث نمبر: 23030
٢٣٠٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن سُرّية الربيع بن خثيم عن الربيع أنه كره أخذ اللقطة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ربیع رحمہ اللہ لقطہ اٹھانے کو ناپسند کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 23031
٢٣٠٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حرمي (بن) (١) عمارة عن أبي عتبة (الدهان) (٢) قال: سألت جابر بن زيد عن اللقطة آخذها من الطريق؟ (فكرهها) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن زید رضی اللہ عنہ سے لقطہ کے متعلق دریافت کیا گیا کہ راستہ سے اٹھا سکتے ہیں ؟ انہوں نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حدیث نمبر: 23032
٢٣٠٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن منصور عن إبراهيم أو (تميم) (٢) بن سلمة -شك منصور- قال: كان شريح يمر بالدينار فلا (يعرض) (٣) له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ راہ چلتے ہوئے دینار کے قریب سے گزرے لیکن اس کی توجہ ہی نہ فرمائی۔
حدیث نمبر: 23033
٢٣٠٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: (وكيع قال: حدثنا) (١) الضحاك بن ⦗١٣٧⦘ (يسار) (٢) عن أبي صالح عن أبي هريرة أنه رأى دينارًا مطروحًا (فيدنيه) (٣) (برجله) (٤) حتى أتى به قريبا من مكان الإمام فتركه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے گِرا ہوا ایک دینار دیکھا تو اس کو اپنے پاؤں سے لڑھکا دیا یہاں تک کہ وہ امام کے مکان کے قریب آگیا تو پھر آپ نے اس کو وہیں چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 23034
٢٣٠٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع حدثنا واقد بن عبد اللَّه قال: كنت عند عطاء بن أبي (رباح) (١) فسأله رجل، (فقال) (٢): ترك اللقطة خير أو أخذها؟ قال: لا، بل تركها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء بن ابی رباح سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ لقطہ کا اٹھانا بہتر ہے یا چھوڑ دینا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا چھوڑ دینا بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 23035
٢٣٠٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد اللَّه بن دينار قال: قلت لابن عمر: وجدت لقطة، قال: ولم أخذتها؟ (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن دینار فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ مجھے لقطہ ملا ہے، آپ نے فرمایا اس کو کیوں اٹھایا ہے ؟
حدیث نمبر: 23036
٢٣٠٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن موسى بن أبي الفرات (المكي) (١) قال: سمعت طاوسًا (وسأله) (٢) رجل فقال: وجدت دينارًا فأخذته، قال: (أأضعه) (٣) مكانه قال: قد (ضمنته) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس سے ایک شخص نے دریافت کیا مجھے ایک دینار ملا ہے کیا میں اس کو دوبارہ اسی جگہ رکھ دوں ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تو اس کا ضامن بن چکا ہے۔
حدیث نمبر: 23037
٢٣٠٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أبي (حيان) (١) عن الضحاك بن المنذر بن جرير (عن أبيه) (٢) (عن) (٣) (أبيه) (٤) جرير قال: الضالة (لا) (٥) يأخذها أو لا يأويها إلا ضال (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گم شدہ چیز کو گمراہ ہی اٹھاتے ہیں۔
حدیث نمبر: 23038
٢٣٠٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن يحيى (بن) (١) سعيد (عن) (٢) سعيد بن المسيب قال: قال عمر وهو مسند ظهره إلى الكعبة: من أخذ ضالة فهو (ضال) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کعبہ سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے آپ نے فرمایا جو گم شدہ چیز اٹھائے وہ گمرا ہ ہے۔
حدیث نمبر: 23039
٢٣٠٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا همام عن قتادة عن سعيد ابن المسيب قال: قال عمر: لا يضم الضالة إلا ضال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : گم شدہ چیز کو گمراہ ہی اٹھاتا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں گم شدہ چیز کو گمراہ ہی کھاتا ہے۔
حدیث نمبر: 23040
٢٣٠٤٠ - وقال علي: لا يأكل الضالة إلا ضال (١).
حدیث نمبر: 23041
٢٣٠٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن يحيى بن سعيد عن سليمان بن يسار عن ثابت (بن) (١) الضحاك قال: وجدت بعيرًا فسألت عمر فقال: عرفه، فعرفته فلم أجد أحدًا يعرفه فأتيته (قال) (٢): فقلت: قد شغلني قال: فأرسله حيث (وجدته) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ مجھے ایک اونٹ ملا، میں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی تشہیر کرو، میں نے تشہیر کی لیکن کسی کو مالک نہ پایا میں ان کے پاس آیا اور عرض کیا کہ اس نے مجھے مشغول کردیا ہے ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر جہاں سے پکڑا تھا وہیں چھوڑ دو ۔