حدیث نمبر: 23007
٢٣٠٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن يزيد مولى المنبعث عن زيد بن خالد الجهني قال: (سئل رسول) (١) اللَّه ﷺ عن اللقطة فقال: (عرفها سنة، فإن جاء صاحبها وإلا فاستنفقها) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لقطہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک سال تک اس کی تشہیر کرو اگر مالک آجائے تو ٹھیک وگرنہ خود خرچ کرلو۔
حدیث نمبر: 23008
٢٣٠٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن طلحة (بن) (١) يحيى عن عبد اللَّه (ابن فروخ) (٢) (هو مولى لآل طلحة بن عبيد اللَّه) (٣) قال: سأل رجل أم سلمة زوج النبي ﷺ فقال لها: الرجل يجد سوطًا؟ (فقالت) (٤): لا بأس به، يصل به المسلم يده، قال: والحذاء؟ قالت: والحذاء؟ (قال) (٥): (والوعاء؟) (٦) قالت: لا أحل ما حرم اللَّه، الوعاء يكون فيه (اللقطة) (٧) (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ ایک شخص کو کوڑا ملتا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کوئی حرج نہیں اس میں، اس تک ایک مسلمان کا ہاتھ پہنچا ہے۔ اس نے دریافت کیا کہ جوتا ملتا ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جوتی بھی (استعمال کرے) ۔ اس نے دریافت کیا برتن ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا جو اللہ نے حرام کیا ہے وہ حلال نہیں کیا جائے گا ۔ برتن میں لقطہ کے احکام جاری ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 23009
٢٣٠٠٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (سفيان) (١) عن منصور عن ⦗١٣١⦘ طلحة بن (مصرف) (٢) عن أنس بن مالك أن النبي ﷺ وجد تمرة فقال: (لولا أن تكوني من الصدقة لأكلتك] (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک کھجور ملی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ صدقہ کی نہ ہوتی تو میں کھا لیتا۔
حدیث نمبر: 23010
٢٣٠١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) سفيان عن منصور عن طلحة بن (مصرف) (٢) عن ابن عمر أنه وجد تمرة فأكلها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کھجور ملی انہوں نے اس کو تناول فرما لیا۔
حدیث نمبر: 23011
٢٣٠١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: كانوا يرخصون من اللقطة في (السير) (١) والعصا والسوط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان ، حضرت منصور اور ابراہیم رحمہ اللہ ، کھجور، عصا اور کوڑے کے لقطہ کو استعمال کرنے کی اجازت دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 23012
٢٣٠١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ربيعة بن (عتبة) (١) (الكناني) (٢) قال: سمعت عطاء قال: لا بأس أن يلتقط السير والعصا والسوط.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لقطہ میں یہ چیزیں ملیں تو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 23013
٢٣٠١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي قيس الأودي عن (بشير) (١) أنه رخص في اللقطة نحوا من خمسة دراهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر پانچ درہم سے کم قیمت کے لقطہ کے استعمال کی اجازت دیتے تھے۔
حدیث نمبر: 23014
٢٣٠١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: إذا كان إليها محتاجًا فليأكلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر خود محتاج ہو تو اس کو کھالے ( استعمال کرلے ) ۔
حدیث نمبر: 23015
٢٣٠١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عبد الرحمن بن الأسود (عن أبيه) (١) عن عائشة أنها رخصت في اللقطة في درهم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ایک درہم کے لقطہ کی اجازت دیتی تھی۔
حدیث نمبر: 23016
٢٣٠١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن عبيد المكتب عن أبي (رزين) (١) قال: لو وجدتها وأنا محتاج إليها لأكلتها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو رزین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مجھے لقطہ ملے اور میں محتاج ہوتا تو میں اس کو کھالیتا۔
حدیث نمبر: 23017
٢٣٠١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن موسى بن أبي عائشة عن رجل عن ميمونة أنها وجدت تمرة فأكلتها (وقالت) (١): لا يحب اللَّه الفساد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کو ایک کھجور ملی تو آپ رضی اللہ عنہا نے وہ تناول فرما لی اور فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں فرماتا۔
حدیث نمبر: 23018
٢٣٠١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن شيخ (لم يسمه) (١) (قال) (٢): رأيت ابن عمر وجد تمرة (٣) فمسحها ثم ناولها مسكينًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعر ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا آپ کو ایک کھجور ملی آپ اس کو صاف کیا اور مسکین کو کھلا دیا۔
حدیث نمبر: 23019
٢٣٠١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن عقبة بن (عبد اللَّه) (١) قال: حدثني ميسرة بن عميرة أنه لقي ⦗١٣٣⦘ (أبا هريرة) (٢) فقال: ما تقول في اللقطة؟ (قال: وما اللقطة؟ قال:) (٣) الحبل والزمام (ونحو هذا) (٤) قال: تعرفه، فإن وجدت صاحبه رددته عليه، وإلا استمتعت به (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت میسرہ بن عمیرہ کی حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ لقطہ کے متعلق آپ رضی اللہ عنہ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ کون سا لقطہ مراد ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ڈوری اور لگام وغیرہ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر مالک مل جائے تو اس کو لٹا دو ، وگرنہ اس کو استعمال کرلو۔
حدیث نمبر: 23020
٢٣٠٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن: إذا كان (إليها محتاجًا) (١) يأكلها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ محتاج ہو تو خود استعمال کرلے گا۔
حدیث نمبر: 23021
٢٣٠٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سلمة بن وردان قال: سألت سالم بن عبد اللَّه عن ضالة الإبل فقال: معها (سقاؤها وحذاؤها) (١)، دعها إلا أن تعرف صاحبها فتدفعها إليه، قال: وسألته عن ضالة المغنم فقال: عرفها، فإن جاء صاحبها وإلا فهي لك أو لأخيك أو للذئب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن عبد اللہ سے گم شدہ اونٹ کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ سم اور مشک موجود ہیں (یعنی پانی کی بھی احتیاجی نہیں اور اپنے سموں سے وہ دور تک کا سفر بھی کرسکتی ہے) ۔ لہٰذا تو اس کو چھوڑ دے۔ ہاں اگر اس کے مالک کا علم ہو تو اس کو دے دے۔ پھر راوی کہتے ہیں کہ میں نے گم شدہ بکری کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : اس کی تشہیر کرو ۔ اگر مالک آجائے تو بہتر ہے وگرنہ یا تو وہ تیرے لئے ہے یا تیرے کسی بھائی کے لئے یا پھر بھیڑیے کے لئے ہے۔
حدیث نمبر: 23022
٢٣٠٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا هشام بن سعد عن عمرو ابن شعيب عن أبيه عن جده أن رجلًا سأل النبي ﷺ عن ضالة المغنم فقال: "لك أو لأخيك أو للذئب"، وساله عن ضالة الإبل فقال: "ما تريد (إليها؟) (١) معها (سقاؤها وحذاؤها) (٢)، تأكل المرعى وترد الماء" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گم شدہ بکری کے متعلق سوال کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یا وہ تیرے لئے ہے یا تیرے بھائی کے لئے یا پھر بھیڑیے کے لئے ہے۔ اُس نے گم شدہ اونٹ کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو اس سے کیا چاہتا ہے ۔ اس کے ساتھ پانی کا مشکیزہ اور نعل موجود ہے۔ چراگاہ سے کھائے گا اور پانی پر جائے گا۔
حدیث نمبر: 23023
٢٣٠٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن (العالية) (١) (قالت) (٢): كنت (جالسة) (٣) عند عائشة فاتتها امرأة فقالت: يا أم المؤمنين إني وجدت شاة ضالة فكيف تأمريني أن أصنع؟ فقالت: عرفي واحلبي و (اعلفي) (٤)، ثم عادت فسألتها، فقالت عائشة: (تأمريني) (٥) أن آمرك أن (تذبحيها أو تبيعيها) (٦) فليس لك ذلك (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت العالیہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر تھی کہ ایک خاتون آئی اور عرض کی اے ام المؤمنین ! مجھے ایک گم شدہ بکری ملی ہے، آپ رضی اللہ عنہا کیا حکم دیتی ہیں میں اس کا کیا کروں ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس کی تشہیر کرو، اس کا دودھ نکالو اور اس کو چارہ کھلاؤ، پھر وہ دوبارہ حاضر ہوئی اور سوال کیا ؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : تو مجھ سے اس امید پر سوال کر رہی ہے کہ میں تجھے ذبح یا فروخت کرنے کا حکم دوں گی ؟ یہ تیرے لئے جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23024
٢٣٠٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن زهير بن أبي ثابت عن سلمى، ولا أراها إلا ابنة كعب، (قالت) (١): وجدت (خاتمًا) (٢) في طريق مكة فسألت عائشة (فقالت) (٣): تمتعي به (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بنت کعب رحمہ اللہ فرماتی ہیں کہ مجھے مکہ مکرمہ کے راستہ میں ایک انگوٹھی ملی، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اس سے فائدہ اٹھاؤ۔
حدیث نمبر: 23025
٢٣٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن زيد بن جبير قال: كنت ⦗١٣٥⦘ قاعدا عند ابن عمر فأتاه رجل فقال: ضالة (وجدتها) (١)؟ (فقال) (٢): أصلح إليها وأنشد، قال: فهل علي أن شربت من لبنها (٣)؟ قال ابن عمر: ما أرى عليك في ذلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا ایک شخص آیا اور عرض کیا کہ مجھے گم شدہ جانور ملا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اس کی اصلاح کر کے اس کو نفع بخش بناؤ، اور اس کی تشہیر کرو، اس نے دریافت کیا کہ اگر میں اس کا دودھ استعمال کرلوں تو مجھ پر ضمان ہے ؟ حضر ت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا میرے خیال میں تجھ پر کچھ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 23026
٢٣٠٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن وردان عن أيوب عن عطاء قال: رخص للمسافر أن يلتقط السوط والعصا والنعلين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ مسافر کو اجازت دی گئی جبکہ اس کو کوڑا، عصا اور جوتے اگر ملیں تو استعمال کرلے۔
حدیث نمبر: 23027
٢٣٠٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) أبو خالد الأحمر عن يحيى بن سعيد عن معاوية بن عبد اللَّه بن (بدر) (٢) عن أبيه قال: وجدت ثمانين دينارًا في عهد عمر بن الخطاب فأتيت بها عمر فقال: عرفها سنة، قلت: فإن لم تعرف؟ قال: فاستمتع بها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بدر فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں اسّی دینار ملے، میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک سال تک تشہیر کرو، میں نے عرض کیا اگر پھر بھی مالک نہ ملے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا پھر نفع اٹھا لو۔