کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: پڑی ہوئی کوئی چیز ملے تو اُس کا کیا کرے؟
حدیث نمبر: 22993
٢٢٩٩٣ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن عبد العزيز بن رفيع قال: حدثني أبي قال: وجدت عشرة دنانير، فأتيت ابن عباس فسألته (عنها) (١)، فقال: عرفها على الحجر سنة، فإن تعرف فتصدق بها، (فإن) (٢) جاء صاحبها (فخيره) (٣) الأجر أو الغرم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت رفیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے بیس دینار ملے، میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس حاضر ہوا اور آپ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا اونچی جگہ اس کا ایک سال تک اعلان کرو، اگر کوئی نہ ملے تو صدقہ کردو پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اس کو اختیار ہے ۔ چاہے صدقہ کا اجر لے یا نقصان اپنا لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22993
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ رفيع صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22993، ترقيم محمد عوامة 22049)
حدیث نمبر: 22994
٢٢٩٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن عامر بن شقيق عن أبي وائل قال: اشترى عبد اللَّه جارية بسبعمائة درهم، فغاب صاحبها فانشدها حولًا -أو قال: سنة- ثم خرج إلى المسجد فجعل يتصدق ويقول: اللهم فله، فإن أبي فعلي (١)، ثم قال: هكذا افعلوا باللقطة أو بالضالة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل سے مروی ہے کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سات سو دراہم میں باندی خریدی، باندی کا مالک غائب ہوگیا تو آپ نے ایک سال تک اس کی تشہیر کی پھر مسجد میں آئے اور وہ صدقہ کر دئیے اور فرمایا : اے اللہ ! یہ اس کے لئے ہیں، اگر وہ انکار کر دے تو پھر میرے لئے ہیں۔ پھر فرمایا : گم شدہ اور ملی ہوئی شے کے ساتھ بھی اسی طرح کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22994
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف عامر بن شقيق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22994، ترقيم محمد عوامة 22050)
حدیث نمبر: 22995
٢٢٩٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن محمد بن إسحاق عن (عمرو) (١) بن شعيب عن أبيه عن جده قال: سمعت رجلًا من مرينة يسأل النبي ﷺ فقال: ما نجد في السبيل العامرة من اللقطة؟ فقال: (عرفها حولًا، فإن جاء صاحبها وإلا فهي لك) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے مزینہ کے ایک شخص کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے سنا کہ : جو پڑی ہوئی چیز ہمیں آباد (جہاں لوگوں کی آمد و رفت کثرت سے ہو) راستے میں ملے اس کا کیا کریں ؟ آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا : ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس کا مالک مل جائے تو اچھا ہے اگر نہ ملے تو پھر وہ تیرے لئے ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22995
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22995، ترقيم محمد عوامة 22051)
حدیث نمبر: 22996
٢٢٩٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن عبد الرحمن بن شريح قال: حدثني أبو قبيل عن عبد اللَّه بن عمرو أن رجلًا قال: التقطت دينارًا، (فقال) (١): لا يأوي الضالة إلا ضال، قال: فأهوى (به) (٢) الرجل ليرمي به (فقال) (٣): لا تفعل، قال: فما أصنع (به) (٤)؟ قال: تُعرِّفه، فإن جاء صاحبه فرده ⦗١٢٦⦘ إليه وإلا فتصدق به (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص کہنے لگا کہ مجھے ایک دینار ملا ہے۔ دوسرے شخص نے کہا کہ گم شدہ چیز کو گمراہ آدمی ہی ٹھکانہ دیتا ہے۔ وہ شخص اس کو مارنے کے لئے آگے بڑھا تو حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا ایسا مت کرو، اس نے دریافت کیا کہ پھر اس دینار کا کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس کی تشہیر کرو، اگر مالک مل جائے تو اس کو لٹا دو ، وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22996
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22996، ترقيم محمد عوامة 22052)
حدیث نمبر: 22997
٢٢٩٩٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (مسعر) (١) وسفيان عن حبيب بن أبي ثابت قال: سئل ابن عمر عن اللقطة، فقال: ادفعها إلى الأمير] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے لقطہ ( گری پڑی ہوئی چیز) کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایا امیر وقت کے حوالہ کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22997
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22997، ترقيم محمد عوامة 22053)
حدیث نمبر: 22998
٢٢٩٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن أبي السفر عن رجل من بني رؤاس، قال: التقطت ثلاثمائة درهم فعرفتها تعريفًا ضعيفًا وأنا يومئذٍ محتاج، فأكلتها حين لم أجد أحدًا يعرفها، ثم أيسرت فسألت عليًا فقال: عرفها سنة، فإن جاء صاحبها فادفعها إليه، وإلا فتصدق بها، وإلا فخيره بين الأجر وبين أن تغرمها له (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سفر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ بنی رُؤاس میں سے ایک شخص کہتے ہیں کہ مجھے تین سو دراہم ملے، میں نے ان کی تھوڑی سی تشہیر کروائی میں ان دنوں خود محتاج تھا۔ تشہیر کے بعد جب میں نے کسی کو نہ پایا تو میں نے وہ کھا لیئے، پھر بعد میں صاحب استطاعت ہوگیا تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک سال تک ان کی تشہیر کرو ، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالے کردو، وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو، اور اس کو اختیار ہے کہ اس کا اجر ( صدقہ) لے لے یا تُو اس کا نقصان پورا کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22998
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22998، ترقيم محمد عوامة 22054)
حدیث نمبر: 22999
٢٢٩٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا يونس (بن) (١) أبي إسحاق قال: سمعت هذا الحديث من أبي السفر عن رجل من بني (رؤاس) (٢) عن علي مثله إلا (أنه) (٣) لم يقل: عرفها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22999
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22999، ترقيم محمد عوامة 22055)
حدیث نمبر: 23000
٢٣٠٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن إبراهيم بن عبد الأعلى عن سويد قال: كان عمر بن الخطاب يأمر أن تعرف اللقطة سنة، فإن جاء صاحبها وإلا (تصدق) (١) بها، فإن جاء صاحبها (٢) خير (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ لقطہ کے متعلق حکم فرماتے تھے کہ ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر مالک آجائے تو ٹھیک وگرنہ اس کی طرف سے صدقہ کردو، اگر پھر اس کا مالک آجائے تو اختیار ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23000
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23000، ترقيم محمد عوامة 22056)
حدیث نمبر: 23001
٢٣٠٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) الأسود بن (شيبان) (٢) عن أبي نوفل (بن) (٣) أبي عقرب عن أبيه قال: التقطت بدرة فأتيت بها عمر بن الخطاب فقلت: يا أمير المؤمنين (أغنها) (٤) عني، (فقال) (٥): واف بها (الموسم) (٦)، (فوافيت) (٧) بها الموسم (٨) فعرفتها، فلم أجد أحدا يعرفها (٩). فأغنها عني، فقال: إلا أخبرك بخير (سبلها) (١٠) تصدق بها، فإن جاء صاحبها فاختار المال غرمت له وكان الأجر لك، وإن اختار الأجر كان الأجر له ولك ما نويت (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عقرب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ مجھے پیسوں کی ایک تھیلی ملی۔ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے امیر المؤمنین ! آپ میری طرف سے ان کی حفاظت کرنے کے لئے نائب بن جائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایام حج میں اعلان کرنا، میں نے ایام حج میں اعلان کیا۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایک سال تک تشہیر کرو۔ میں نے تشہیر کی لیکن مالک کو نہ پایا، میں پھر آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ آپ میری طرف سے حفاظت کے لئے نائب بن جائیں، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا تجھے ایک بہتر راستہ بتلاؤں، ان کو صدقہ کر دے، اگر پھر مالک آجائے اور مال مانگے تو نقصان کا ذمہ دار ہے، اور صدقہ کا اجر تجھے ملے گا، اور اگر وہ اجر کا طالب ہو تو اجر اس کو ملے گا اور تجھے وہی ملے گا جس کی تو نیت کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23001
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23001، ترقيم محمد عوامة 22057)
حدیث نمبر: 23002
٢٣٠٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن زكريا عن الشعبي قال: تعرف اللقطة سنة، فإن لم تجد لها طالبا فأعطها أهل بيت من المسلمين فقراء (وقل) (١) لهم: هذه قرض من صاحبها عليكم، فإن جاء فهو أحق بها، (وإن) (٢) لم يجيء فهي (صدقة) (٣) عليكم منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لقطہ کی ایک سال تشہیر کی جائے گی، اگر اس کا مالک نہ ملے تو فقراء اہل بیت کو دے دے اور ان کو یہ کہہ دے کہ یہ تم پر اس کے مالک کی طرف سے قرض ہے اگر تو مالک آگیا تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے۔ اور اگر وہ نہ آیا اس کی طرف سے تم پر صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23002
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23002، ترقيم محمد عوامة 22058)
حدیث نمبر: 23003
٢٣٠٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع قال) (١): حدثنا سفيان عن سلمة ابن كهيل عن سويد بن غفلة قال: خرجت أنا و (زيد بن صوحان) (٢) وسلمان بن ربيعة حتى إذا كنا بالعذيب (٣) التقطت سوطًا، فقالا: لي ألقه، فأبيت فلما (أتيت) (٤) (المدينة) (٥) أتيت أبي بن كعب فسألته فقال: التقطت (مائة) (٦) دينار على عهد النبي ﷺ، فذكرت ذلك له فقال: عرفها سنة، فإن جاء صاحبها (فادفعها) (٧) إليه وإلا فاعرف عددها ووعاءها ووكاءها، ثم يكون كسبيل مالك (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوید بن غفلہ سے مروی ہے کہ میں ، زید بن صوحان اور حضرت سلمان بن ربیعہ سفر پر نکلے یہاں تک کہ مقام عذیب پر جب پہنچے تو میں نے ایک کوڑا گرا ہوا اٹھا لیا، اُن دونوں نے مجھ سے کہا کہ اس کو پھینک دو ، لیکن میں نے انکار کردیا۔ جب میں مدینہ آیا تو میں حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس کے متعلق سوال کیا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں سو دینار ملے تھے میں نے ان کو ذکر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالہ کردو ورنہ ان دیناروں کی تعداد اور تھیلی، برتن وغیرہ کی اچھی طرح پہچان کرلو۔ پھر تو اس رقم کے مالک کے راستہ کی مانند ہے (یعنی پہلے وہ اس رقم کو راستہ سے اٹھا لیتا لیکن اب وہ تیرے سے لے گا) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23003
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٤٢٦)، ومسلم (١٧٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23003، ترقيم محمد عوامة 22059)
حدیث نمبر: 23004
٢٣٠٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن عبد الرحمن بن ⦗١٢٩⦘ حرملة قال: سألت سعيد بن المسيب عن اللقطة فقال: عرفها (سنة) (١) (فأنشد) (٢) ذكرها، فإن جاء من يعرفها فأعطها إياه هالا فتصدق بها، فإن جاء فخيره بين الأجر واللقطة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے لقطہ کے متعلق دریافت کیا گیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا ایک سال تک تشہیر کرو ، اور خوب اس کی مشہوری کرو، اگر مالک آجائے تو اس کے حوالہ کردو، وگرنہ اس کے لئے صدقہ کردو، پھر صدقہ کرنے کے بعد مالک آجائے تو اس کو اختیار ہے ، صدقہ کا ثواب لے یا گم شدہ چیز۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23004
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23004، ترقيم محمد عوامة 22060)
حدیث نمبر: 23005
٢٣٠٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن نافع عن ابن عمر أنه قال في اللقطة: عرفها لا آمرك أن تأكلها، لو شئت لم تأخذها (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما لقطہ کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس کی تشہیر کرو، میں آپ کو کھانے کا مشورہ نہیں دوں گا ، اگر آپ چاہو تو اس کو مت اٹھاؤ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23005
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23005، ترقيم محمد عوامة 22061)
حدیث نمبر: 23006
٢٣٠٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن أبي العلاء عن مطرف عن عياض بن (حمار) (١) قال: قال النبي ﷺ: (من وجد لقطة فليشهد (ذا عدل أو ذوي عدل) (٢) ثم لا (يغيره) (٣) ولا يكتم، فإن (جاء ربها) (٤) فهو أحق بها، وإلا فهو مال اللَّه يؤتيه من يشاء) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیاض بن حمار سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس کو لقطہ ملے اس کو چاہیئے کہ اس پر دو گواہ بنا لے ، پھر نہ اس کو تبدیل کرے نہ ہی چھپائے، اگر اس کا مالک آجائے تو وہ زیادہ حق دار ہے ، اور اگر مالک نہ آئے تو وہ اللہ کا مال (نعمت) ہے جس کو چاہے وہ عطاء کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 23006
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (١٧٤٨١)، وأبو داود (١٧٠٩)، وابن حبان (٤٨٩٤)، والطحاوي في شرح المشكل (٣١٣٦)، وابن ماجه (٢٥٠٥)، والطبراني ١٧/ (٩٩٠)، والنسائي في الكبرى (٥٧٠٩)، وابن أبي عاصم في الآحاد (١١٩٣)، والطيالسي (١٠٨١)، وابن الجارود (٦١٧)، والبيهقي ٦/ ١٨٧، وابن عبد البر في التمهيد ٣/ ١٢١.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 23006، ترقيم محمد عوامة 22062)