حدیث نمبر: 22979
٢٢٩٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن طاوس عن ابن عباس، قال: بلغ عمر بن الخطاب أن فلانًا يبيع الخمر فقال: ما له قاتله اللَّه، ألم يعلم أن رسول اللَّه ﷺ قال: "لعن اللَّه اليهود حرمت (عليهم) (١) الشحوم (فحملوها) (٢) فباعوها وأكلوا أثمانها" (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا خبر ملی کہ فلاں شخص شراب بیچتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کیا ہوگیا اس کو اللہ اس کو ہلاک کرے ۔ کیا اس کو نہیں معلوم کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : یہودیوں پر اللہ کی لعنت ہو، ان پر چربی حرام کی گئی ، انہوں نے اس کو پگھلا کر بیچنا شروع کردیا اور اس کے ثمن کو کھالیا۔
حدیث نمبر: 22980
٢٢٩٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن مجالد عن أبي الوداك عن أبي سعيد قال: كان عندنا خمر ليتيم لنا، فلما نزلت الآية التي في المائدة سألنا النبي ﷺ فقال: "أهر بقوه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہمارے پاس ایک یتیم بچہ کی شرا ب تھی۔ جب سورة المائدہ میں شراب کی حرمت نازل ہوئی تو ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کو گِرا دو ۔
حدیث نمبر: 22981
٢٢٩٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن أبي الضحى عن مسروق عن عائشة قالت: لما نزلت (آيات) (١) الربا قام رسول اللَّه ﷺ على المنبر فتلاهن على الناس، ثم حرم التجارة في الخمر (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب شراب کی حرمت نازل ہوئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور لوگوں کو آیات پڑھ کر سنائیں پھر شراب کی تجارت کو حرام قرار دے دیا۔
حدیث نمبر: 22982
٢٢٩٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش (عن مسلم) (١) عن مسروق عن عائشة عن النبي ﷺ بنحوه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ سے اسی کے مثل قول منقول ہے۔
حدیث نمبر: 22983
٢٢٩٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس ووكيع عن (طعمة بن عمرو عن عمر) (١) بن (بيان) (٢) التغلبي عن عروة بن المغيرة (بن) (٣) شعبة عن أبيه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من باع الخمر فليشقص الخنازير" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شراب کی بیع کرے وہ ایسا ہے گویا کہ اس نے خنزیر کو ذبح کیا ( کھانے کے لئے ) ۔
حدیث نمبر: 22984
٢٢٩٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مطيع (بن) (١) عبد اللَّه قال: (سمعت) (٢) الشعبي يحدث عن ابن عمر قال: قال عمر: لعن اللَّه فلانًا، فإنه أول من أذن في بيع الخمر، (فإن) (٣) التجارة لا (تصلح) (٤) فيما) (٥) لا (يحل) (٦) أنهله وشربه (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : فلاں پر اللہ کی لعنت ہو ، وہ پہلا شخص ہے جس نے شراب کی بیع کی اجازت دی، جس چیز کا کھانا اور پینا حلال نہیں اس کی تجارت بھی ٹھیک نہیں ۔
حدیث نمبر: 22985
٢٢٩٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر قال: أخبرنا أبو (حيان) (١) عن أبي الفرات عن أبي داود قال: كنت تحت منبر حذيفة وهو بالمدائن، فحمد اللَّه ⦗١٢٢⦘ وأثنى عليه ثم قال: أما بعد (ألا إن) (٢) بائع الخمر وشاربها في الإثم (سواء) (٣)، ألا ومقتني الخنازير وآكلها في الإثم سواء (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو داؤد فرماتے ہیں کہ میں حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے منبر کے قریب بیٹھا ہوا تھا آپ اس وقت مدائن میں تھے۔ آپ نے اللہ کی حمدو ثناء کی پھر فرمایا : اما بعد : لوگو ! سن لو شراب کی تجارت کرنے والا اور شراب پینے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔ اور خبردار خنزیر کو پالنے والا اور اس کا گوشت کھانے والا دونوں گناہ میں برابر ہیں۔
حدیث نمبر: 22986
٢٢٩٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الحارث (ابن) (١) شبيل عن (أبي) (٢) عمرو الشيباني، قال: بلغ عمر بن الخطاب أن رجلًا (أثرى) (٣) من بيع (الخمر) (٤) فقال: (اكسروا) (٥) كل آنية له، وسيروا كل ماشية له (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اطلاع ملی کہ ایک شخص شراب کی تجارت سے مال دار ہوا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کے تمام مٹکے توڑ دو اور شراب کے تمام جانوروں کو نکال دو ۔
حدیث نمبر: 22987
٢٢٩٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع قال) (١): حدثنا مسعر عن وبرة ابن عبد الرحمن قال: سمعت ابن (عمر) (٢) يقول: لا يصلح بيع الخمر ولا شربها (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ شراب کی بیع اور اس کا پینا درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22988
٢٢٩٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن حصين عن بكر بن ⦗١٢٣⦘ عبد اللَّه قال: لما حرمت الخمر أتوا (إلى) (١) النبي ﷺ (فقالوا) (٢): (يا رسول) (٣) اللَّه أنبيعها فننتفع باثمانها، قال: (أهريقوها) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بکر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب شراب حرام ہوئی تو ہم لوگ خدمت نبوی ﷺ میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا ہم اس کو فروخت کر کے اس کے ثمن سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ساری شراب انڈیل دو ۔
حدیث نمبر: 22989
٢٢٩٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا عبد العزيز بن عمر عن عبد الرحمن بن (عبد اللَّه) (١) الغافقي وأبي طعمة مولاهم سمعا ابن عمر يقول: قال (٢) رسول اللَّه ﷺ: (لعنت الخمر على عشرة وجوه: لعنت الخمر بعينها، وعاصرها، ومعتصرها، ويائعها، ومبتاعها، وحاملها، والمحمولة إليه، و (آكل) (٣) ثمنها، وشاربها و (ساقيها) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : شراب دس قسم کے آدمیوں پر ذریعہ لعنت ہے، شراب کے عین پر، اس کے نچوڑنے والے پر، اس کے فروخت کرنے والے پر، خریدنے والے پر، اس کے اٹھانے والے پر، جس کے لئے اٹھایا جائے اس پر، اس کا ثمن کھانے والے پر، اس کے پینے والے پر اور اس کے پلانے والے پر۔
حدیث نمبر: 22990
٢٢٩٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: (حدثنا وكيع قال) (١): حدثنا إسماعيل بن أبي خالد عن عمران بن أبي الجعد عن ابن عمر قال: سمعته يقول: لا يصلح بيع الخمر ولا شربها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ شراب کی بیع اور اس کا پینا درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22991
٢٢٩٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة (عن) (١) عبد الحميد بن جعفر عن يزيد بن أبي حبيب عن عطاء عن جابر (عن) (٢) النبي ﷺ: (نهى يوم الفتح عن بيع الخمر والأصنام) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن شراب کی بیع اور بتوں کی پوجا سے منع فرمایا۔
حدیث نمبر: 22992
٢٢٩٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن (جهيم) (١) قال: سأل رجل عطاء قال: ورثت عُرُشًا (٢)، قال: بعه عنبًا، قال: فإن لم أجد أحدًا يشتريه؟ قال: فبعه عصيرًا، قال: فإن لم أجد أحدًا يشتريه؟ قال: فلا تبع الخمر، فإنه لا يحل بيع الخمر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء رحمہ اللہ سے ایک شخص نے دریافت کیا کہ مجھے وراثت میں انگور کی بیل ملی ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا اس کے انگور فروخت کرو، اس نے عرض کیا کہ اگر انگور کا خریدار نہ ملے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ پھر اس کا شیرا بنا کر فروخت کر دے، اس نے عرض کیا کہ اگر اس کا بھی خریدار نہ ملے ؟ آپ نے فرمایا پھر شراب بنا کر فروخت مت کرنا کیونکہ شراب کی بیع جائز نہیں ہے۔