حدیث نمبر: 22938
٢٢٩٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن (عبيد اللَّه) (١) بن أبي (يزيد) (٢) عن ابن عباس أنه كره [بيع ده دوازده وقال: بيع الأعاجم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما دس کی بارہ کے ساتھ بیع کو ناپسند فرماتے تھے، اور فرماتے تھے کہ یہ عجمیوں کی بیع ہے۔
حدیث نمبر: 22939
٢٢٩٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن (بكير) (١) (بن) (٢) عتيق عن سعيد بن جبير أنه كان يكره] (٣) بيع ده (دوازده) (٤) وده دوزاده قلت له: فكيف أصنع؟ قال: قل: أخذته بكذا وأبيعكه بكذا وكذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ دس کی گیارہ کے ساتھ اور دس کی بارہ کے ساتھ بیع کرنے کو ناپسند کرتے تھے، راوی فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ پھر میں کس طرح کروں ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ تو کہہ : میں اس کو اتنے میں لیتا ہوں ۔ اور اس کو اتنے اتنے میں فروخت کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 22940
٢٢٩٤٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عمار الدهني عن ابن أبي نعم عن ابن عمر، قال: هو ربا (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ سود ہے۔
حدیث نمبر: 22941
٢٢٩٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هلال بن أبي ميمون، قال: سمعت سعيد بن المسيب سئل عن بيع ده وازده؟ قال: لا بأس به] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے بیع دہ دوازدہ ( دس کی بارہ کے بدلے میں ) کے متعلق سوال کیا گیا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا اس میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 22942
٢٢٩٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن القعقاع بن يزيد عن إبراهيم قال: كنا نكرهه (ثم) (١) لم نر به بأسًا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پہلے ہم اس کو ناپسند کرتے تھے پھر ہم اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22943
٢٢٩٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن أشعث عن الحكم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بیع دہ ، دوازدہ میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22944
٢٢٩٤٤ - وحماد عن إبراهيم وابن سيرين أنهما قالا: لا بأس ببيع ده دوازده.
حدیث نمبر: 22945
٢٢٩٤٥ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عبد الأعلى عن سعيد ابن جبير عن (ابن) (١) عباس قال: هو ربا] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ سود ہے۔
حدیث نمبر: 22946
٢٢٩٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن (الجعد) (١) بن ذكوان قال: شهدت شريحا أجاز بيع ده دوازده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جعد بن ذکوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں قاضی شریح کی خدمت میں حاضر تھا آپ نے اس بیع کو جائز قرار دیا۔
حدیث نمبر: 22947
٢٢٩٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن القاسم عن مسروق أنه كره بيع ده دوازده قال: يقول: اشتريته بكذا وكذا (وأبيعكه) (١) بكذا (وكذا) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق اس بیع کو ناپسند کرتے تھے ، اور فرماتے کہ وہ یوں کہے : میں نے اتنے اتنے کا خریدا ہے اور اتنے کا فروخت کرتا ہوں۔
حدیث نمبر: 22948
٢٢٩٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ربيع عن الحسن قال: كان يكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ اس کو ناپسند سمجھتے تھے اور حضرت عکرمہ فرماتے ہیں یہ حرام ہے۔
حدیث نمبر: 22949
٢٢٩٤٩ - وقال عكرمة: هو حرام.
حدیث نمبر: 22950
٢٢٩٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الوليد (بن) (١) جميع عن عكرمة عن ابن عباس قال: هو ربا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ یہ سود ہے۔