حدیث نمبر: 22898
٢٢٨٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد بن (أبي عروبة عن قتادة) (١) عن سعيد بن المسيب أنه (كان) (٢): لا (يرى بأسًا) (٣) بان يعالج الرجل النخل (ويقوم) (٤) عليه بالثلث والربع ما لم ينفق (هو) (٥) منه شيئًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی حرج نہیں اگر آدمی درخت ( کھجور) میں کام کرے، اور ثلث یا ربع طے کرے، جب تک کہ وہ اس میں سے کچھ خرچ نہ کرے۔
حدیث نمبر: 22899
٢٢٨٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن (ابن) (١) أبي عروبة عن قتادة عن الحسن أنه كان يكره ذلك إلا (بأجر) (٢) معلوم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ اس کو ناپسند کرتے تھے جب تک کہ اجرت متعین اور معلوم نہ ہو ۔
حدیث نمبر: 22900
٢٢٩٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن أيوب عن (الفضيل) (١) عن سالم قال: النخل (٢) يُعطى من عمل فيه منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم رحمہ اللہ درخت میں عمل کے متعلق فرماتے ہیں ، جو اس میں عمل کرے اسی میں سے عطا کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 22901
٢٢٩٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: كان يكره كل شيء يعمل بالثلث والربع.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ ہر اس معاملہ کو ناپسند کرتے تھے جس میں ثلث یا ربع عمل طے کیا جائے۔
حدیث نمبر: 22902
٢٢٩٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري أنه كان لا يرى بأسًا أن يستأجر الأجير (١) يعمل في الأرض بالثلث والربع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اجیر ثلث یا ربع اجرت پر کوئی کام کرے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22903
٢٢٩٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن حماد قال: كان يكره أن يستأجر الأجير فيقول: لك ثلثٌ أو ربع مما (تخرج أرضي هذه) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اجیر ( مزدور) اس طرح کام کرے کہ اس کو کہا جائے کہ جو زمین سے پیدا وار حاصل ہوگی اس کا ثلث یا ربع مجھے ملے گا یہ ناپسندیدہ ( مکروہ) ہے۔