حدیث نمبر: 22859
٢٢٨٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن قابوس بن (١) المخارق عن أبيه قال: بعث على محمد بن أبي بكر على مصر، فكتب إليه يسأله عن مكاتب مات وترك مالا وولدًا، فكتب يأمر في (المكاتب) (٢) إن (كان) (٣) ترك وفاء لمكاتبته، (يدعى) (٤) مواليه فيستوفون، وما بقي كان ميراثًا لولده (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مخارق سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت محمد بن ابوبکر رضی اللہ عنہ کو مصر بھیجا، انہوں نے مصر سے آپ کو خط لکھا اور اس مکاتب کے متعلق دریافت کیا جو مال اور اولاد چھوڑ کر فوت ہوجائے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو مکاتب کے متعلق تحریر کیا : اگر تو بدل کتابت کے لئے مال چھوڑ کر فوت ہو تو اس کے آقا کو بلا کر ان کو بدل کتابت مکمل ادا کیا جائے گا۔ اور جو باقی بچ جائے وہ اس کی اولاد کے لئے میراث ہوگا۔
حدیث نمبر: 22860
٢٢٨٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن إسماعيل عن الشعبي قال: قلت له: إن شريحًا كان يقضي في المكاتب يموت ويترك مالًا وولدًا: ⦗٩٤⦘ (يؤدّى) (١) عنه لمواليه ما بقي من مكاتبته (و) (٢) ما بقي رده على ولده؟.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت شعبی رحمہ اللہ سے عرض کیا کہ حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس مکاتب کے متعلق جو مال اور اولاد چھوڑ کر فوت ہوجائے یہ فیصلہ فرمایا تھا کہ : جو بدل کتابت باقی رہ گیا ہے وہ اس کے آقا کو ادا کیا جائے گا، اور جو مال باقی بچ جائے وہ اس کی اولاد کو مل جائے گا، حضرت شعبی رحمہ اللہ نے فرمایا : حضرت شریح رحمہ اللہ نے اس مسئلہ میں حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ کے قول کے مطابق فیصلہ فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 22861
٢٢٨٦١ - فقال: إن شريحًا كان يقضي فيها بقضاء عبد اللَّه (١).
حدیث نمبر: 22862
٢٢٨٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إن فضل شيء وإن لمواليه حتى تتم مكاتبته، وإن فضل شيء بعد مكاتبته كان لورثته.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مال بچ جائے تو وہ آقا کو ملے گا یہاں تک کہ بدل کتابت مکمل ادا ہوجائے۔ اور جو مال اس کے بعد بچ جائے وہ ورثاء کو ملے گا۔
حدیث نمبر: 22863
٢٢٨٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم مثله.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے اسی کے مثل منقول ہے۔
حدیث نمبر: 22864
٢٢٨٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن يزيد عن أبي العلاء عن قتادة أن عمر بن الخطاب وزيد بن ثابت قالا: إذا مات المكاتب وله مال فهو لمواليه، وليس لولده شيء (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر مکاتب مال چھوڑ کر فوت ہوجائے تو وہ مال آقا کو ملے گا اس کی اولاد کو کچھ نہیں ملے گا۔
حدیث نمبر: 22865
٢٢٨٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن (١) عبد اللَّه في مكاتب مات وترك مالًا وولدًا أحرارًا، قال: يؤدى ما بقي من مكاتبته، وما بقي فلولده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ اس مکاتب کے متعلق فرماتے ہیں جو مال اور آزاد اولاد چھوڑ کر مرے، فرماتے ہیں جو بدل کتابت باقی رہ گیا ہے اس کو ادا کریں گے اور جو مال باقی بچ جائے وہ اس کی اولاد کو ملے گا۔