کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اگر کسی شخص کو سامانِ تجارت دے، پھر خود کو اس کی ضرورت پیش آجائے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22829
٢٢٨٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن عبد العزيز بن رفيع عن عطاء قال: سألته قلت: إنا نحمل هذه البضائع للناس فنحتاج إليها في الطريق، قال: إذا ⦗٨٧⦘ قدمت اشتريت لأصحابها (حاجتهم) (١) ولم تحبسها؟ قلت: بلى، قال: لا بأس هو خير لصاحب البضاعة.
مولانا محمد اویس سرور
راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عطا رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ ہم سامان تجارت لوگوں کے حوالے کرتے ہیں، پھر راستے میں ہمیں اس کی ضرورت پڑجاتی ہے تو ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟ آیا ہم اسے لے سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تم منزل مقصود پر پہنچ جاؤ تو لوگوں کو ان کی ضرورت کی چیزیں بیچو گے ؟ میں نے عرض کیا کیوں نہیں، آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں۔ یہ سامان والے کے لئے زیادہ بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 22830
٢٢٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن هشام عن الحسن في رجل (دفعت إليه) (١) (دراهم) (٢) يشتري بها شيئًا فصرفها في حاجته ثم ردها، فاشترى بها الذي أمر به، قال: هو ضامن حتى يسلمها إلى ربها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کو کچھ دراہم دئیے گئے تاکہ وہ ان سے کوئی چیز خریدے، اس نے وہ دراہم اپنی ضرورت میں خرچ کر دئیے ، پھر ان کو واپس کردیا اور اس کے ساتھ وہی چیز خریدی جس کا اس کو کہا گیا تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا جب تک وہ مالک کے سپرد نہ کر دے وہ ضامن ہوگا۔