حدیث نمبر: 22759
٢٢٧٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن طاوس قال: إذا علمت مكيلة شيء فلا (تبعه) (١) جزافًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طاؤس فرماتے ہیں کہ جب کسی چیز کی مقدار معلوم ہو تو پھر اس کو اندازے سے فروخت نہ کرو۔
حدیث نمبر: 22760
٢٢٧٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معتمر بن (سليمان) (١) قال: قلت لأبي: الرجل يقول: قد كلت في هذه (الخابية) (٢) كذا وكذا منّا، ولا أدري لعله (ينقص أو يسرق) (٣) أو (تشتبه الخابية) (٤) أوكان فيه غلط، لا أبيعك كيلًا، إنما أبيعك جزافًا، قال: كان ابن سيرين يكرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معتمر بن سلیمان فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ ایک شخص کہنے لگا کہ میں نے اس مٹکے کو تولا ہے اس میں اتنے من ہے، اور مجھے نہیں معلوم شاید یہ کم ہوگیا ہو، یا اس میں سے چوری ہوگیا ہو یا پھر کسی اور مٹکے سے مل گیا ہو یا پھر اس میں کچھ غلطی ہوگئی ہو، میں اس کو کیل کر کے فروخت نہیں کروں گا، میں اس کو اندازاً فروخت کروں گا، اب اس بیع کا کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت ابن سیرین نے اس کو ناپسند کیا اور حسن رحمہ اللہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22761
٢٢٧٦١ - وكان الحسن لا يرى به بأسًا.
حدیث نمبر: 22762
٢٢٧٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة قال: سألت إبراهيم عن رجل كان جَزّافا فقال له: ما (كان في بيتك) (١) من حنطة فبكذا، و (ما كان) (٢) من شعير فبكذا وكذا، قال: فكرهه إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص اندازے سے خریدتا ہے اور کہتا ہے کہ جو کچھ تیرے گھر میں گندم ہے وہ اتنے میں اور جو بھی جُوْ ہے وہ اتنے اتنے میں ؟ ابراہیم رحمہ اللہ نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حدیث نمبر: 22763
٢٢٧٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (فطر) (١) أنه سأل الشعبي عن قوم من الأعراب يقدمون (علينا) (٢) بالطعام فنشتري منهم كيلا ثم نقول: بيعونا جزافًا قال: لا، حتى (تتاركوا البيع) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کچھ دیہاتی ہمارے پاس غلہ لے کر آئے ہم نے ان سے کیل کر کے کچھ خریدا پھر وہ کہنے لگے کہ ہمارے ساتھ اندازے سے بیع کرو ؟ آپ نے فرمایا ایسا مت کرو یہاں تک کہ وہ بیع چھوڑنے پر راضی ہوجائیں۔
حدیث نمبر: 22764
٢٢٧٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن جريج عن عطاء أنه لم يكن يرى بأسًا أن يبيعه جزافا (إذا) (١) أعلمه أنه يعلم كيله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا رحمہ اللہ اندازاً بیع کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جبکہ اس چیز کی مقدار معلوم ہو۔
حدیث نمبر: 22765
٢٢٧٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (روّاد) (١) بن جراح أبو (عصام) (٢) العسقلاني عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير، قال: سألت الحسن و (مجاهدًا) (٣) وعكرمة (وعطاء) (٤) عن رجل يأتي الرجل (فابتاع) (٥) من بيته طعامًا (٦) فيه مجازفة، ورب الطعام قد علم كيله، (فكرهه) (٧) كلهم.
مولانا محمد اویس سرور
حسن، حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ اور حضرت عطا سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص دوسرے کے پاس آتا ہے اور اندازاً گندم کی بیع کرتا ہے، اور بعض اوقات گندم کی مقدار معلوم بھی ہوتی ہے تو ایسی بیع کرنا کیسا ہے ؟ سب حضرات نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حدیث نمبر: 22766
٢٢٧٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الربيع (عن) (١) نافع قال: لقد رأيتنا وفينا أصحاب رسول اللَّه ﷺ يجاء بالأوساق (فتلقى) (٢) (بالمصلى) (٣) فيقول الرجل: كلتُ كذا وكذا، ولا أبيعه مكايلة، إنما أبيعه مجازفة فلم يروا به بأسًا (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو دیکھا کہ ان کے سامنے غلے کے وسق لائے جاتے تھے اور ایک آدمی کہتا کہ میں نے ان چیزوں کو کیل کر کے لیا ہے میں انہیں کیل کے حساب سے نہیں بلکہ اندازے سے بیچوں گا۔ اصحاب نبی اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 22767
٢٢٧٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن (عبيد اللَّه) (١) عن نافع عن ابن عمر قال: كنا (نتلقى) (٢) الركبان فنشتري منهم الطعام مجازفة، ⦗٧٤⦘ (فنهى) (٣) رسول اللَّه ﷺ أن نبيعه حتى نحوله من مكانه أو ننقله (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہم لوگ سواروں سے ملتے اور ان سے اندازے سے گندم وغیرہ خریدتے تھے ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روک دیا جب تک کہ ہم اس کو اس کی جگہ سے منتقل نہ کردیں۔