کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص بیع سلم کرتے ہوئے یوں کہے : جو کچھ گندم میں سے ہے وہ اتنے کا ہے
حدیث نمبر: 22739
٢٢٧٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن حصين عن محمد بن زيد قال: قلت لابن (عمر) (١): ربما أسلم الرجل إلى الرجل ألفًا (٢) ونحوها فيقول: إن أعطيتني برا فبكذا، وإن أعطيتني شعيرا فبكذا، قال: (يسمي) (٣) في كل نوع منها (ورقًا) (٤) مسماةٍ، فإن أعطاك الذي (أسلمت) (٥) فيه وإلا فخذ رأس مالك (٦).
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ بعض اوقات کوئی شخص کسی کے ساتھ ایک ہزار درہم میں بیع سلم کرتا ہے، اور یوں کہتا ہے کہ اگر تو نے مجھے گندم دیا تو یہ سودا اتنے کا ہوگا اور اگر جُوْ دی تو اتنے میں ہوگا، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ان میں سے ہر نوع ( قسم) کے لئے الگ قیمت بیان کرے ، اگر اسی قیمت میں مجھے دے دے تو ٹھیک وگرنہ اس سے اپنا راس المال واپس لے لے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22739
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن زيد صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22739، ترقيم محمد عوامة 21816)
حدیث نمبر: 22740
٢٢٧٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (أسلم) (١) المنقري عن سعيد بن جبير في الرجل يسلم فيقول: ما (كان) (٢) عندك (من) (٣) حنطة فبكذا، (وما) (٤) كان (عندك) (٥) من حبوب فبكذا، أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اگر کوئی شخص بیع سلم کرتے ہوئے یوں کہے کہ جو کچھ تیرے پاس گندم میں سے ہے وہ اتنے کا اور جو کچھ تیرے پاس دانوں میں سے وہ اتنے میں، تو ایسا کرنا ناپسندیدہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22740
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22740، ترقيم محمد عوامة 21817)
حدیث نمبر: 22741
٢٢٧٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يحيى) (١) بن أبي زائدة عن أبيه قال: سئل عامر عن السلم في الحنطة والشعير أيهما (استيسر) (٢) عليه أعطاه، قال: لا يصلح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر سے گندم اور جُوْ کی بیع سلم کے متعلق دریافت کیا گیا کہ جو بھی آسانی سے میسر ہو دے سکتا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : بیع اس کی صلاحیت نہیں رکھتی ۔ (درست نہیں ہے)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22741
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22741، ترقيم محمد عوامة 21818)
حدیث نمبر: 22742
٢٢٧٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن عبد الملك عن عطاء في رجل أسلم في شيء معلوم إلى أجل معلوم، فإن لم يدفعه فكذا وكذا (لشيء) (١) آخر معلوم، قال: لا يصلح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطا رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص کسی متعین چیز میں متعین وقت کے لئے بیع سلم کرے اگر وہ اس کو اتنی نہ دے سکے تو اتنی مقدار میں کوئی اور متعین چیز دے سکتا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ درست نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22742
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22742، ترقيم محمد عوامة 21819)
حدیث نمبر: 22743
٢٢٧٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي عدي عن أشعث عن الحسن في الرجل يسلف فيقول: إن كان برًا فبكذا، وإن كان شعيرًا (فبكذا) (١) أنه كرهه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص یوں کہتے ہوئے سلم کرے کہ اگر گندم ہو تو اتنے میں اور جُوْ ہو تو اتنے میں تو کیسا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے اس کو ناپسند فرمایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22743
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22743، ترقيم محمد عوامة 21820)