کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: کسی شخص کے پاس امانت کا مال ہو وہ شخص اُس مال کو کاروبار میں لگا کر نفع کما لے تو وہ منافع کس کا شمار ہو گا؟
حدیث نمبر: 22733
٢٢٧٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن أبي نجيح قال: سأله رجل وأنا أسمع (عن) (١) رجل استودع مالًا يتجر فيه، فقال: كان عطاء يقول: ما كان فيه من (نماء) (٢) (فهو لرب) (٣) المال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی نجیع سے مروی ہے کہ ایک شخص نے دریافت کیا کہ اگر کسی شخص کے پاس امانت رکھوائی جائے اور وہ اس کو تجارت میں لگا لے ؟ حضرت عطا رحمہ اللہ نے فرمایا جو منافع حاصل ہو وہ رب المال کو ملے گا، اور حضرت مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا نہ رب المال کو ملے گا اور نہ ہی امانت دار کو بلکہ وہ مساکین کو ملے گا۔
حدیث نمبر: 22734
٢٢٧٣٤ - وقال مجاهد: ليس لرب المال ولا للمستودع، وهو للمساكين.
حدیث نمبر: 22735
٢٢٧٣٥ - (حدثنا أبو بكر قال) (١): حدثنا هشام عن الحسن قال: لا تحرك الوديعة إلا بإذن ربها، فإن فعل (فهو) (٢) ضامن، وله الربح.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امانت کے مال کو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر کاروبار میں مت لگاؤ، اگر اس سے بغیر اجازت ایسا کیا تو وہ ضامن ہوگا اور جو منافع اس کو حاصل ہوا وہ اسی کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 22736
٢٢٧٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن ابن أبي عروبة عن أبي معشر عن إبراهيم في الوديعة: لا ضمان عليه إلا أن يحولها (عن) (١) موضعها أو يغيرها عن حالها، فإن هو غيرها عن موضعها فكان فيه ربح فإنه يتصدق به، وليس لواحد منهما.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ امانت کے متعلق فرماتے ہیں کہ اس پر اس وقت ضمان نہیں آئے گا جب تک وہ اس کو اس کی جگہ سے پھیر نہ دے یا اس کو اس کی حالت سے تبدیل نہ کر دے، اگر وہ اس کو اس کی حالت سے تبدیل کر دے اور اس کو کچھ منافع حاصل ہو تو اس کو نفع کو صدقہ کر دے وہ ان میں سے کسی کا نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 22737
٢٢٧٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن خالد عن أبي قلابة قال: سئل ابن عمر عن مال اليتيم فقال: هو مضمون حتى (تدفعه) (١) إليه، قال: إنه ⦗٦٦⦘ قد كان فيه فضل، [قال: اصنع بفضله ما شئت، هو مضمون حتى تدفعه إليه] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یتیم کے مال کے متعلق دریافت کیا گیا، آپ نے فرمایا کہ جب تک وہ واپس نہ کردیا جائے وہ مضمون (قابلِ ضمان) رہتا ہے، دریافت کیا گیا کہ اس میں کچھ منافع بھی ہے، فرمایا منافع کے ساتھ جو چاہے کرے لیکن یتیم کا مال جب تک واپس نہ کرے مضمون (قابلِ ضمان) رہے گا۔
حدیث نمبر: 22738
٢٢٧٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن ابن عون عن إبراهيم في الرجل يكون عنده (المال لأيتام) (١) فيعمل به، قال: هو (ضامن) (٢) إذا عمل بغير إذنهم (فالربح) (٣) يتصدق به.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ ایک شخص کے پاس یتیموں کا مال ہے ، تو کیا وہ اس کو تجارت میں استعمال کرسکتا ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا اگر وہ ان کی اجازت کے بغیر کرے تو وہ ضامن ہوگا، اور جو منافع حاصل ہو اس کو صدقہ کرے گا۔