حدیث نمبر: 22711
٢٢٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن أيوب عن عمرو بن دينار عن (الحسن العرني) (١) رجل من أهل الكوفة أن رجلا قال: يا رسول اللَّه (أضرب يتيمي؟ قال) (٢): "أضربه مما كنت ضاربًا (منه) (٣) ولدك" قال: فما آكل من ماله؟ قال: "بالمعروف (٤) غير متأثل من ماله ولا (واقيًا) (٥) مالك بماله" (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حسن عزنی ایک کوفی شخص سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا میں اپنے زیر تربیت یتیم کو مار سکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس کو اتنا ہی مارو جتنا کہ اگر اس کی جگہ تمہارا اپنا بیٹا ہوتا تو اس کو مارتے، اس شخص نے عرض کیا کہ میں اس کے مال میں سے کتنا اور کیسے استعمال کرسکتا ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اچھے اور معروف طریقے سے، اس کے مال کو ضائع کیے بغیر اور اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچائے بغیر استعمال کرسکتے ہو۔
حدیث نمبر: 22712
٢٢٧١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن المبارك عن الربيع بن أنس عن أبي العالية قال: ما أكلت من مال اليتيم فهو دين عليك، ألا ترى إلى قوله ﴿فَإِذَا دَفَعْتُمْ (إِلَيْهِمْ) (١) (أَمْوَالَهُمْ) (٢) فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ﴾ [النساء: ٦].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو العالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال میں جتنا کھاؤ گے وہ تم پر قرض ہوگا، کیا تم دیکھتے نہیں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : { فَإِذَا دَفَعْتُمْ إلَیْہِمْ أَمْوَالَہُمْ فَأَشْہِدُوا عَلَیْہِمْ } جب تم ان کے مال انہیں دو تو اس پر گواہ بناؤ۔
حدیث نمبر: 22713
٢٢٧١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن سلمة بن علقمة عن ابن سيرين قال: سألت عبيدة عن قوله: ﴿وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾، قال: إنما هو (قرض) (١)، ألا ترى إلى قوله: ﴿فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ﴾ [النساء: ٦].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبیدۃ رحمہ اللہ سے دریافت کیا اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ وَمَنْ کَانَ فَقِیرًا فَلْیَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ } سے کیا مراد ہے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا اس سے مراد قرض ہے، کیا آپ دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : { فَإِذَا دَفَعْتُمْ إلَیْہِمْ أَمْوَالَہُمْ فَأَشْہِدُوا عَلَیْہِمْ } جب تم ان کے مال انہیں دو تو اس پر گواہ بناؤ۔
حدیث نمبر: 22714
٢٢٧١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن ابن أبي نجيح عن مجاهد في قوله: ﴿وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾: (يستسلف) (١) منه، (و) (٢) يتجر فيه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ وَمَنْ کَانَ فَقِیرًا فَلْیَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے ادھار لے کر اس مال کو تجارت میں لگا لے۔
حدیث نمبر: 22715
٢٢٧١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن الشيباني عن عكرمة عن ابن عباس قال: الوصي (إذا) (١) (احتاج) (٢) وضع يده مع أيديهم، ولا (يكتسي) (٣) عمامة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ اگر وصی محتاج ہوجائے تو اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ کے ساتھ رکھ دے (یعنی یتیموں کے ساتھ کھائے) اور عمامہ نہ پہنے (یعنی سادگی اختیار کرے)
حدیث نمبر: 22716
٢٢٧١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (أبي العميس عن) (١) عبدة بن أبي (لبابة) (٢) عن أبي يحيى (٣) عن ابن عباس في قوله (تعالى) (٤): ﴿وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾، قال: من ماله (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَمَنْ کَانَ فَقِیرًا فَلْیَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ } کے متعلق فرماتے ہیں کہ ناداری کی صورت میں ان کے مال میں سے کھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 22717
٢٢٧١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي جعفر الرازي عن الربيع عن أبي العالية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان، حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ اور حضرت وائل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرض لے کر کھائے۔
حدیث نمبر: 22718
٢٢٧١٨ - وسفيان (عن حماد) (١) عن سعيد بن جبير.
حدیث نمبر: 22719
٢٢٧١٩ - وعن سفيان عن عاصم عن أبي وائل قالوا: بالقرض.
حدیث نمبر: 22720
٢٢٧٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن حصين عن محمد بن كعب قال: أتته امرأة فسألته فقالت: إن بنيَّ وإخوةً لهم من أبيهم (و) (١) هم أيتام في حجري، وكان لي مال (كنت) (٢) أنفقه (عليهم) (٣) حتى ذهب ولهم مال، فما ترى؟ قال: ضعي يدك مع أيديهم وكلي بالمعروف.
مولانا محمد اویس سرور
محمد بن کعب سے مروی ہے کہ ایک عورت آئی اور سوال کیا کہ میرے بیٹے اور ان کے بھائی جو ان کے والد کی طرف سے ہیں، یتیم ہیں اور میری کفالت میں ہیں، میرے پاس اپنا مال ہے، میں ان پر اپنا مال خرچ کرتی رہی، یہاں تک کہ وہ ختم ہوگیا، اب ان کا مال موجود ہے اس کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اپنے ہاتھ ان کے ہاتھوں کے ساتھ رکھو اور معروف طریقے سے کھاؤ۔
حدیث نمبر: 22721
٢٢٧٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن عطاء (و) (١) عكرمة: ﴿وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ (قالا) (٢): يضع يده (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَمَنْ کَانَ فَقِیرًا فَلْیَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ } سے مراد یہ ہے کہ اپنے ہاتھ کو رکھ دے۔
حدیث نمبر: 22722
٢٢٧٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة في قوله: ﴿وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [النساء: ٦]، قالت: أنزل ذلك في والي مال (اليتيم) (١) يقوم عليه ويصلحه إذا كان محتاجًا (أن) (٢) يأكل منه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد { وَمَنْ کَانَ غَنِیًّا فَلْیَسْتَعْفِفْ وَمَنْ کَانَ فَقِیرًا فَلْیَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ } یتیم کے مال کے والی کے متعلق نازل ہوا ہے، اگر وہ خود محتاج ہو تو اس میں سے کھا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 22723
٢٢٧٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن الحسن بن يزيد عن الشعبي (١) قال: أرسلتني امرأة إليه أسأله عن يتامى في حجرها قامت عليهم، هل تأكل من أموالهم شيئًا؟ قال: نعم، بالمعروف.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک خاتون نے ان کے پاس ان یتیموں کے متعلق دریافت کرنے کے لئے بھیجا جو ان کی تربیت میں تھے، وہ ان کی سرپرست تھی، کیا وہ ان کے اموال میں سے کچھ کھا سکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں معروف طریقے سے کھا سکتی ہے۔
حدیث نمبر: 22724
٢٢٧٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة عن أم سلمة (العتكية) (١) عن عائشة قالت: كلي من مال اليتيم وأعلمي ما (تأكلين) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ یتیم کے مال میں سے کھالو اور جتنا کھاؤ اس کو اپنے علم میں رکھو۔
حدیث نمبر: 22725
٢٢٧٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام الدستوائي عن (حماد) (١) عن إبراهيم قال: قالت عائشة إني (لأكره) (٢) أن يكون مال اليتيم (عندي عرة (٣) حتى) (٤) أخلط (طعامه بطعامي وشرابه بشرابي) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ارشاد فرماتی ہیں کہ میں اس بات کو ناپسند کرتی ہوں کہ یتیم کا مال میرے پاس الگ رکھا ہوں یہاں تک کہ میں اپنے کھانے کو اس کے کھانے کے ساتھ ملا لوں اور اپنے پینے کو اس کے پینے کے ساتھ ملا لوں۔
حدیث نمبر: 22726
٢٢٧٢٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام بن عروة عن أبيه (أنه) (١) رخص لوالي اليتيم أن يأكل (٢) مكان قيامه بالمعروف] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یتیم کے والی کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ اس کے مال میں سے معروف طریقے سے کچھ کھالے۔
حدیث نمبر: 22727
٢٢٧٢٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن مغيرة (١) الأزرق عن الشعبي في والي مال اليتيم، (قال) (٢): يأكل من الرِّسل و (الثمرة) (٣) (بحساب) (٤) (الأجير) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ یتیم کے مال کے والی کے متعلق فرماتے ہیں کہ وہ دودھ اور کھجور میں سے اجیر کے حساب سے تناول کرسکتا ہے۔