حدیث نمبر: 22701
٢٢٧٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن ابن عون (عن نافع) (١) أن ابن عمر كان في حجره يتيمة فزوجها ودفع مالها (إلى زوجها) (٢) مضاربة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما رحمہ اللہ کی تربیت میں ایک یتیم بچی تھی، آپ نے اس کی شادی کردی اور اس کا مال بطور مضاربت اس کے شوہر کو دے دیا۔
حدیث نمبر: 22702
٢٢٧٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة ووكيع عن عبد اللَّه بن حميد عن أبيه عن جده أن عمر بن الخطاب دفع (إليه مال) (١) يتيم مضاربة، فطلب فيه فأصاب، فقاسمه الفضل، ثم (تفرقا) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس یتیم کا مال بطور مضاربت بھیجا۔ انہوں نے اس سے تجارت کی اور نفع کمایا، پھر انہوں نے منافع کو تقسیم فرمایا اور اس معاملے الگ الگ ہوگئے ۔
حدیث نمبر: 22703
٢٢٧٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن داود عن الشعبي أن عمر بن الخطاب كان عنده مال يتيم [فأعطاه مضاربة في البحر (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس یتیم کا مال موجود تھا، آپ رضی اللہ عنہ نے وہ مال بطور مضاربت بحری تجارت میں دے دیا۔
حدیث نمبر: 22704
٢٢٧٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن داود عن الشعبي (عن الحسن) (١) (بن) (٢) علي أنه ولي مال يتيم] (٣) فدفعه إلى (مولى) (٤) له (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حسن رضی اللہ عنہ یتیم کے مال کے والی تھے، انہوں نے وہ مال اس کے مولیٰ ( سرپرست) کو (بطور مضاربت ) دے دیا۔
حدیث نمبر: 22705
٢٢٧٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم قال: لا بأس أن يعمل الوصي بمال اليتيم، [قلت لإبراهيم: إن توى يضمن؟ قال: لا.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وصی یتیم کے مال کو کاروبار میں لگائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، راوی کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ اگر مال ہلاک ہوجائے تو ضامن ہوگا ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا کہ نہیں۔
حدیث نمبر: 22706
٢٢٧٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن حسن بن صالح عن منصور عن إبراهيم قال: لا بأس أن يعمل الوصي بمال اليتيم] (١) له (أو به) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر وصی یتیم کے مال کو کاروبار میں لگائے تو کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 22707
٢٢٧٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن سهل عن الحسن أنه كره أن يدفع مال اليتيم مضاربة (ويقول: اضمنه، ولا تعرضه لبر ولا بحر) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ یتیم کے مال کو بطور مضاربت دینے کو ناپسند سمجھتے تھے،۔ اور فرماتے تھے کہ اس مال کا ضامن ہوجا، اس کو بحری یا زمینی تجارت میں نہ لگا۔
حدیث نمبر: 22708
٢٢٧٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن (يعلى) (١) عن عثمان بن الأسود عن مجاهد قال في مال اليتيم: إن اتجرت فيه فربحت فله، وإن ضاع ضمنت، وإن (وضعته) (٢)، فهلك فليس عليك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد یتیم کے مال کے متعلق فرماتے ہیں کہ اگر اس کو تجارت میں لگا کر نفع کما لو تو وہ اس کا ہے، اور اگر نقصان ہوجائے تو ضامن ہوگا اور اگر وہ پڑا پڑا ہلاک ہوجائے تو ضمان لازم نہ آئے گا۔
حدیث نمبر: 22709
٢٢٧٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن (يحيى بن) (١) سعيد عن القاسم قال: كنا أيتاما في حجر عائشة فكانت (تزكي أموالنا) (٢) وتبضعها (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم کچھ یتیم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی تربیت میں تھے، آپ رضی اللہ عنہا ہمارے مالوں کو پاکیزہ رکھتی تھیں اور تجارت میں لگاتی تھیں۔
حدیث نمبر: 22710
٢٢٧١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا فضيل بن مرزوق عن الضحاك. . ﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ﴾ [الأنعام: ١٥٢]، قال: (يبتغي لليتيم) (١) في ماله.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد { وَلاَ تَقْرَبُوا مَالَ الْیَتِیمِ إلاَّ بِاَلَّتِی ہِیَ أَحْسَنُ } کا مطلب یہ ہے کہ یتیم کے لئے اس مال میں ( روزگار، تجارت) تلاش کیا جائے گا۔