حدیث نمبر: 22683
٢٢٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معتمر) (١) عن عدي بن الفضيل قال: أتيت عمر بن عبد العزيز فاستحفرته بئرا قال: اكتب حريمها خمسين ذراعًا وليس له (حق) (٢) مسلم ولا يضره، وابن السبيل (أولى) (٣) من يشرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عدی بن فضیل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے ان سے کنویں کی کھدوائی کی درخواست کی۔ انہوں نے فرمایا اس کا احاطہ پچاس ذراع لکھ لو، اور اس میں صرف مسلمان کا حق نہیں ہوگا، اور نہ ہی اس کو نقصان پہنچائے گا، اور مسافر اس سے پینے کا زیادہ حق دار ہوگا۔
حدیث نمبر: 22684
٢٢٦٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن محمد بن إسحاق قال: سألت أبا بكر (بن) (١) محمد بن عمرو بن حزم عن الأعطان فقال: أما أهل الجاهلية فكانت خمسين ذراعا لناحيتها يكون بين البئرين مائة، فلما كان الإسلام رأوا أن ⦗٥٣⦘ دون ذلك مجزئ، فجعل لكل (بئر) (٢) خمس وعشرون ذراعا لناحيتها خمسون ذراعًا (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ سے کنویں کے احاطہ کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : زمانہ جاہلیت میں اس کے ارد گرد کے لئے پچاس ذراع ہوتا تھا، دو کنوؤں کے درمیان سو ہوتا تھا، جب اسلام کا دور آیا تو دیکھا گیا کہ اس سے کم بھی کافی ہوجاتا ہے، پھر ہر کنویں کے لئے پچیس ذراع بنایا گیا ، اس کے ارد گرد کے لئے پچاس ذراع۔
حدیث نمبر: 22685
٢٢٦٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن أبي زائدة عن أشعث عن عامر قال: حريم البئر أربعون ذراعا كلها، ليس لأحد أن يدخل عليه في عطنه ولا مائه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کنویں کا احاطہ ( منڈیر) سارا کا سارا چالیس ذراع کا ہوگا۔ کسی کو اس کی جگہ اور پانی پر قبضہ کرنے کی اجازت نہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 22686
٢٢٦٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن (عروة) (١) قال: حريم بئر البدئ (٢) (خمسة) (٣) وعشرون ذراعًا، وحريم العادية خمسون ذراعا وحريم الزرع (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو کنواں دور اسلام میں کھودا جائے اس کا احاطہ پچیس ذراع ہوگا، اور پورے کھودے ہوئے کنویں کا پچاس ذراع اور کھیتی باڑی والے کنویں کا تین سو ذراع ہوگا۔ حضرت امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی ہے کہ چشمے والے کنویں کا چھ سو ذراع ہوگا۔
حدیث نمبر: 22687
٢٢٦٨٧ - قال: الزهري وبلغني أن حريم (العين) (١) (خمسمائة) (٢) ذراع.
حدیث نمبر: 22688
٢٢٦٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) سفيان عن يونس عن الحسن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کنویں کا منڈیر چالیس ذراع ہے۔
حدیث نمبر: 22689
٢٢٦٨٩ - وعن جابر عن الشعبي (قالا) (١): حريم البئر أربعون ذراعًا.
حدیث نمبر: 22690
٢٢٦٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع (قال: حدثنا) (١) سفيان عن إسماعيل ابن أمية عن (الزهري) (٢) عن سعيد بن المسيب قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "حريم بئر البدو (خمسة) (٣) وعشرون ذراعًا، وحريم البئر العادية خمسون ذراحا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کنواں دور اسلام میں کھودا جائے اس کی منڈیر پچیس ذراع ہوگی، اور پرانے کنویں کی پچاس ذراع ہوگی، حضرت سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بئر الذھب کی تین سو ذراع ہوگی۔
حدیث نمبر: 22691
٢٢٦٩١ - قال سعيد: وحريم بئر الزرع ثلاثمائة ذراع.
حدیث نمبر: 22692
٢٢٦٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (سعيد) (١) بن أوس العبسي عن بلال بن يحيى العبسي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا حمى إلا في ثلاثة: (ثلة) (٢) القليب"، -يعني حربم البئر (٣) وحلقة القوم (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بلال بن یحییٰ العیسی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تین چیزوں کے علاوہ کے لئے احاطہ کرنا نہیں ہے : کنویں کا احاطہ، مجلس میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا احاطہ۔ (تیسری چیز یہاں مذکور نہیں لیکن حدیث کی دوسری کتابوں میں ہے اور وہ ہے : طول الفرس، یعنی جہاں آدمی گھوڑا باندھے اس جگہ کا احاطہ)