حدیث نمبر: 22616
٢٢٦١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن قال: نفقة المضارب من جميع المال.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مضارب پورے مال میں سے خرچ کرے گا، اور حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 22617
٢٢٦١٧ - وقال ابن سيرين: (ليس) (١) كذلك.
حدیث نمبر: 22618
٢٢٦١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحكم وحماد عن إبراهيم قال: المضارب ينفق (ويكتسي) (١) بالمعروف، فإن ربح كان من ربحه، وإن وضع كان من رأس المال.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مضارب خرچ کرے گا اور درمیانے درجہ کے کپڑے استعمال کرے گا، اگر اس کو نفع ہو تو وہ اس کے نفع میں سے ہوگا، اور اگر اس کو نقصان ہو تو وہ رأس المال میں سے ہوگا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے اس کے متعلق دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : رب المال سے اجازت کے بغیر خرچ کرنے کو میں پسند نہیں کرتا۔
حدیث نمبر: 22619
٢٢٦١٩ - قال: وسألت ابن سيرين، قال: ما أحب أن ينفق حتى يستأذن رب المال.
حدیث نمبر: 22620
٢٢٦٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: إن شاء المضارب استأجر الأجير وأطعم الرقيق إذا كان من المضاربة، ولا يأكل معهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ اگر مضارب چاہے تو اجیر کو اجرت پر لے سکتا ہے اور غلام کو کھلا سکتا ہے اگر وہ مضاربۃ میں سے ہو، لیکن خود ان کے ساتھ مت کھائے۔
حدیث نمبر: 22621
٢٢٦٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد قال: لا يشترط المضارب طعامًا ولا شيئًا ينتفع به، إلا أن يكون فيه منفعة للمضاربة، فإن لم تكن فيه منفعة للمضاربة كان ذلك في مال نفسه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ مضارب کے لئے کھانے اور کسی ایسی چیز کی شرط نہیں لگائیں گے جس میں اس کا فائدہ ہو، ہاں اگر اس میں مضاربۃ کا فائدہ ہو تو ٹھیک ہے، اگر مضاربہ کا فائدہ نہ ہو تو وہ اس کے اپنے ذاتی مال میں سے شمار ہوگا۔
حدیث نمبر: 22622
٢٢٦٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن ابن لهيعة عن خالد بن أبي عمران عن القاسم وسالم أنه سألهما عن (المقارض) (١) يأكل ويشرب ويكتسي ويركب بالمعروف، (قالا) (٢): إذا كان في سبب المضاربة (فلا بأس) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم اور سالم سے دریافت کیا گیا کہ مضارب ان پیسوں میں سے کھا پی سکتا ہے، سواری کرسکتا ہے اور کپڑے وغیرہ پہن سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ اگر مضاربۃ کی وجہ سے ہو تو پھر کوئی حرج نہیں۔