کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص کھجور کا درخت خریدے پھر پھل کاٹنے سے قبل آگے فروخت کردے
حدیث نمبر: 22497
٢٢٤٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد بن أبي عروبة عن قتادة عن سليمان بن يسار أن زيد بن ثابت والزبير بن العوام لم يريا بأسًا أن يشتري الرجل ما في رؤوس النخل إذا (أدرك) (١)، ثم يبيعه في رؤوس النخل قبل أن يصرمه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ اور حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے کہ آدمی درخت پر جو پھل ہے اس کو خرید لے پھر اس کو کاٹنے سے قبل آگے فروخت کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22497
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22497، ترقيم محمد عوامة 21593)
حدیث نمبر: 22498
٢٢٤٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن عكرمة عن ابن عباس أنه كرهه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کو ناپسند کرتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22498
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22498، ترقيم محمد عوامة 21594)
حدیث نمبر: 22499
٢٢٤٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن محمد أنه قال: إذا اشترى الرجل التمر على رؤوس (النخل) (١) [فلا يبيعها حتى يقبضها.
مولانا محمد اویس سرور
محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص درخت پر لگا پھل خریدے تو جب تک اس پر قبضہ نہ کرلے اس کو آگے فروخت نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22499
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22499، ترقيم محمد عوامة 21595)
حدیث نمبر: 22500
٢٢٥٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن خالد عن عكرمة أنه كان يكره إذا اشترى الثمرة على رؤوس (النخل) (١) أن يبيعها حتى يصرمها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ آدمی درخت پر لگا پھل خرید لے پھر اس کو کاٹنے سے قبل فروخت کر دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22500
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22500، ترقيم محمد عوامة 21596)
حدیث نمبر: 22501
٢٢٥٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد عن هارون عن هشام عن الحسن في الرجل يشتري التمر على روؤس النخل] (١)، قال: لا بأس أن يبيعه قبل أن يصرمه.
مولانا محمد اویس سرور
حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوئی آدمی درخت پر لگا پھل خرید لے تو اس کو کاٹنے سے قبل آگے فروخت کرے تو کوئی حرج نہیں۔ محمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ ہمارے زمانے میں اس میں کوئی حرج نہیں ہے، پھر جب لوگوں نے ان سے بہت زیادہ اس بارے میں پوچھنا شروع کیا تو آپ نے فرمایا : اس چیز کو چھوڑ دو جو تمہیں شک میں ڈال دے اس کے بدلے میں جو تمہیں شک میں نہ ڈالے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22501
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22501، ترقيم محمد عوامة 21597)
حدیث نمبر: 22502
٢٢٥٠٢ - قال: وكان محمد لا يرى به زمانًا بأسًا، فلما (أكثروا) (١) عليه فيه قال: دعوا ما يريبكم إلى ما لا يريبكم.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22502
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22502، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 22503
٢٢٥٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن ثعلبة بن (أبي) (١) ⦗١١⦘ الفرات الأنصاري قال: (بعت) (٢) قومًا ثوبًا وارتهنت منهم رهنا إلى أجل، فلما حل الأجل اشتريت منهم نخلا (بمالي) (٣) عليهم (فقبضته) (٤) ويبسته في رؤوس النخل، فوقع (منه) (٥) (عزق) (٦) فاخذته ثم (جاؤوني) (٧) الذين باعونيه، فرغبوا إلي في (التمر) (٨) فبعته منهم إلى أجل، فأكثر الناس في ذلك فسألت سالما وقصصت عليه القصة، فقال: كان في نفسك أن تبيعه منهم؟ (قلت) (٩): لا واللَّه ولا خطر على قلبي، فقال: لا بأس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ثعلبہ بن فرات انصاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک قوم کے لوگوں کو کپڑا فروخت کیا اور ایک خاص مدت کے لئے پیسے رہن رکھوا دئیے، جب مقررہ مدت مکمل ہوگئی تو ان پیسوں کے بدلے میں ان سے کھجور کے درخت خرید لئے، اور ان پر قبضہ کرلیا اور اس کے پھل کو درخت پر ہی سکھایا، وہ خوشے بن کر پھل دار بن گئے تو میں نے ان کو اتار لیا، پھر جن لوگوں نے مجھے فروخت کیا تھا وہ میرے پاس آئے اور اس پھل کی طرف رغبت کرنے لگے، میں نے وہ پھل ان کو ایک مقررہ مدت کے لئے فروخت کردیا، اس بارے میں لوگوں نے بہت سی باتیں کیں تو میں نے حضرت سالم رحمہ اللہ سے اس کے متعلق دریافت کیا اور ان کو یہ سارا قصہ سنایا۔ آپ نے فرمایا کہ کیا تمہارے دل میں تھا کہ میں دوبارہ انہی کو فروخت کروں گا ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں خدا کی قسم میرے دل میں یہ خیال بھی نہ گذرا تھا، آپ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں، پھر میں نے حضرت قاسم رحمہ اللہ سے دریافت کیا ؟ آپ نے بھی دریافت کیا کہ کیا تمہارے دل میں یہ خیال تھا کہ دوبارہ انہی کو فروخت کروں گا ؟ میں نے عرض کیا نہیں خدا کی قسم میرے دل میں یہ خیال بھی نہ آیا، آپ رحمہ اللہ نے فرمایا پھر کوئی حرج نہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22503
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22503، ترقيم محمد عوامة 21598)
حدیث نمبر: 22504
٢٢٥٠٤ - وسألت القاسم، فقال: كان في نفسك أن تبيعه منهم؟ قلت: لا واللَّه ولا خطر على قلبي (١)، قال: لا بأس.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22504
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22504، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 22505
٢٢٥٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن هارون بن (موسى) (١) النحوي قال: أخبرني الزبير بن (خريت) (٢) عن عكرمة في الرجل يشتري ثمرة النخل، قال: لا يبيعه حتى يصرمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ سے دریافت کیا گیا کہ کوئی شخص اگر کھجور کا درخت خریدے، آپ نے فرمایا کہ جب تک پھل نہ کاٹ لے آگے فروخت نہ کرے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22505
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22505، ترقيم محمد عوامة 21599)