کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کوئی شخص غلام یا گھر خریدے پھر اُس کو کرایہ پر دے کر ان سے نفع حاصل کر ے
حدیث نمبر: 22486
٢٢٤٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن المبارك عن ابن جريج عن ابن شهاب قال: قال أبو بكر بن عبد الرحمن: النماء مع الضمان -يعني الربح-.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ نفع حاصل کرنا ضمان کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22486
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22486، ترقيم محمد عوامة 21583)
حدیث نمبر: 22487
٢٢٤٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن الشيباني عن الشعبي عن (شريح) (١) في الرجل يرد العبد (بالداء) (٢) قال: يرده وله (الغلة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ سے دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی شخص بیماری کی وجہ سے غلام واپس کر دے ؟ آپ نے فرمایا کہ واپس کر دے اس کا نفع اٹھانا اس کے لئے ہی ہوگا۔ ( ضمان وغیرہ نہیں ہے) ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22487
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22487، ترقيم محمد عوامة 21584)
حدیث نمبر: 22488
٢٢٤٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن عون أن رجلًا اشترى عبدا فاستغله، ثم جاء رجل فادعاه فخاصمه إلى إياس بن معاوية فاستحقه فقضى له بالعبد وبغلته، وقضى للرجل على صاحبه الذي اشتراه منه بمثل العبد وبمثل غلته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عون سے مروی ہے کہ ایک شخص نے غلام خریدا پھر اس کو کرایہ پردے کر نفع حاصل کیا، پھر ایک شخص نے اس غلام پر دعویٰ کردیا، وہ دونوں جھگڑتے ہوئے حضرت ایاس بن معاویہ کے پاس آئے، وہ اس غلام کا مستحق نکل آیا آپ نے اس کے لئے غلام اور اس کے منافع کا فیصلہ فرما دیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس فیصلہ کا ذکر حضرت محمد بن سیرین سے کیا، آپ نے فرمایا وہ سمجھ دار ہیں، جو صحیح سمجھا اس کا فیصلہ کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22488
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22488، ترقيم محمد عوامة 21585)
حدیث نمبر: 22489
٢٢٤٨٩ - قال: فذكرت ذلك لمحمد بن سيرين فقال: هو فهم.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22489
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22489، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 22490
٢٢٤٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ عن أشعث عن الحسن في رجل اشترى عبدًا واطلع على عيب وقد (استغله) (١) قال: الغلة للمشتري.
مولانا محمد اویس سرور
حسن اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جو غلام خریدے پھر وہ عیب پر مطلع ہو ، اور وہ اس غلام کو کرایہ پردے کر نفع بھی اٹھا چکا ہو، آپ نے فرمایا کہ نفع مشتری کے لئے ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22490
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22490، ترقيم محمد عوامة 21586)
حدیث نمبر: 22491
٢٢٤٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن حماد قال: الغلة له بالضمان.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ نفع جو اٹھایا ہے وہ مشتری کے لئے ہوگا مگر ضمان کے ساتھ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22491
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22491، ترقيم محمد عوامة 21587)
حدیث نمبر: 22492
٢٢٤٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الحارث العكلي في رجل اشترى دارًا فاستغلها ثم جاء رجل فاستحقها قال: لا (اجعل) (١) له من ⦗٨⦘ الغلة (شيئًا) (٢) -يعني المستحق، وفي (أشباه) (٣) هذا فيمن (استنقذ) (٤) من (يديه) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث عکلی سے مروی ہے کہ ایک شخص نے مکان خریدا اور پھر اس کو کرایہ پردے کر نفع اٹھایا، پھر ایک شخص اس کا مستحق نکل آیا، آپ نے فرمایا میں اس کے لئے اس سے نفع اٹھانے پر کوئی ضمان لازم نہ کروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22492
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22492، ترقيم محمد عوامة 21588)
حدیث نمبر: 22493
٢٢٤٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع وابن إدريس عن ابن أبي ذئب عن (مخلد) (١) بن (خفاف) (٢) عن عروة عن عائشة قالت: قضى رسول اللَّه ﷺ أن الخراج بالضمان (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ خراج ضمان کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22493
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ مخلد وَثَّقَهُ ابن وضاح وذكره ابن حبان في الثقات وصحح له الترمذي وابن حبان، وروى عنه ثلاثة، وتوبع في حديثه هذا، وقد صححه الترمذي وابن القطان ٥/ ٢١٢، وحسنه البغوي في شرح السنة، والحديث أخرجه أحمد (٢٥٧٤٥)، وأبو داود (٣٥٠٨)، والترمذي (١٢٨٥)، والنسائي ٧/ ٢٥٤، وابن ماجه (٢٢٤٢)، وابن حبان (٤٩٢٨)، والحاكم ٢/ ١٥، والطيالسي (١٤٦٤)، والشافعي في المسند ٢/ ١٤٣، وعبد الرزاق (١٤٧٧٧)، وابن الجارود (٢٧)، وإسحاق (٧٥٠)، وحميد بن زنجويه (٢٨٠)، وأبو يعلى (٤٥٧٥)، والطحاوي ٤/ ٢١، والبغوي في الجهد الثابت (٢٨٣٠)، وابن عدي ٦/ ٢٤٣٦، والدارقطني ٣/ ٥٣، وتمام (٦٩١)، والبيهقي ٥/ ٣٢١، والبغوي (٢١١٩)، وابن عبد البر ١٨/ ٢٠٦.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22493، ترقيم محمد عوامة 21589)
حدیث نمبر: 22494
٢٢٤٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير عن (عبيدة) (١) عن إبراهيم (قال) (٢): له الغلة بالضمان.
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ نفع اٹھانا ضمان کے ساتھ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22494
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22494، ترقيم محمد عوامة 21590)
حدیث نمبر: 22495
٢٢٤٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب عن ابن لهيعة عن يزيد بن أبي حبيب في رجل باع دارًا (لابنه) (١)، وكان الأب (يرهق) (٢)، فجاء الابن إلى عمر بن عبد العزيز فأبطل بيعه وقضى له بالدار (فقال: غلتها؟) (٣)، وقال: غلتها بضمانها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن ابو حبیب سے مروی ہے کہ ایک شخص نے اپنے بیٹے کا مکان فروخت کیا، اس کا باپ کم عقل تھا ، بیٹا حضرت عمر بن عبد العزیز کے پاس آیا تو آپ نے بیع کو باطل کردیا اور بیٹے کے لئے گھر کا فیصلہ فرمایا ۔ بیٹے نے سوال کیا کہ اس کے کرائے کا کیا ہوگا ؟ حضرت عمر بن عبد العزیز نے فرمایا کہ اس کانفع ضمان کے ساتھ ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22495
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22495، ترقيم محمد عوامة 21591)
حدیث نمبر: 22496
٢٢٤٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا حسن بن صالح عن مطرف عن رجل يقال له حجاج عن شريح في رجل غصب عبدًا (فاستغله) (١)، قال: يرد الغلة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شریح رحمہ اللہ اس شخص کے متعلق فرماتے ہیں جس نے غلام غصب کیا اور پھر اس سے نفع اٹھایا، آپ نے فرمایا : کرایہ پردے کر جو نفع حاصل کیا ہے وہ واپس کرے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22496
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22496، ترقيم محمد عوامة 21592)