کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کسی شخص کو گمشدہ اونٹ ملے اور وہ اُس پر خرچ کرے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 22450
٢٢٤٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن داود عن الشعبي قال: أضل رجل بعيرًا، فوجده عند رجل قد أنفق عليه، أعلفه، وأسمنه، فاختصما إلى عمر بن عبد العزيز وهو يؤمئذ أمير على المدينة، فقضى لصاحب البعير ببعيره، وقضى عليه بالنفقة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی کا اونٹ گم ہوگیا، اس نے اپنا اونٹ دوسرے شخص کے پاس پایا جو اس کو کھلا پلا رہا ہے، اس کو چارہ دے کر فربہ کردیا ہے، وہ دونوں اپنا جھگڑا حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پاس لے کر گئے، آپ ان دنوں مدینہ منورہ کے گورنر تھے، آپ نے اونٹ کے مالک کے لئے اونٹ کا فیصلہ فرمایا اور اس پر اس کے خرچہ کی ادائیگی کو لازم فرمایا، حضرت شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے اس فیصلہ نے تعجب میں نہیں ڈالا، پھر آپ نے فرمایا کہ آدمی اپنا اونٹ پکڑ لے اس پر کوئی نفقہ وغیرہ بھی نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22450
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22450، ترقيم محمد عوامة 21550)
حدیث نمبر: 22451
٢٢٤٥١ - (فقال) (١) الشعبي: فلم يعجبني ذلك، وقال: يأخذ الرجل بعيره ولا نفقة عليه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22451
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22451، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 22452
٢٢٤٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه قال: سمعت النعمان بن مرة يحدث (١) سعيد بن المسيب قال: رأيت عليًا بنى للضوال مربدًا، فكان يعلفها علفا لا يسمنها ولا يهزلها من بيت المال، فكانت تشرف بأعناقها، فمن أقام بينة على شيء أخذه، وإلا أقرها على حالها لا يبيعها (٢). (فقال) (٣) سعيد بن المسيب: لو وليت أمر المسلمين صنعت هكذا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا حضرت علی رضی اللہ عنہ نے گمشدہ اونٹوں کے لئے باڑہ بنایا ہوا تھا، اس میں ان کو چارہ ڈالا جاتا، نہ ان کو بہت فربہ کیا جاتا نہ بہت لاغر، سارا خرچ بیت المال کے ذمہ ہوتا، وہ اونٹ گردنوں کو بلند کرکے جھانکا کرتے تھے، اگر کوئی شخص کسی اونٹ پر گواہ پیش کردیتا تو وہ لے لیتا وگرنہ وہ باڑہ میں اسی حال میں رہتے، اس کو فروخت نہ کیا جاتا۔ حضرت سعید بن مسیب فرمایا کرتے تھے کہ اگر مجھے مسلمانوں کا امیر بنایا جاتا تو میں یہی کرتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22452
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22452، ترقيم محمد عوامة 21551)