کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: کسی شخص کو کوئی بچہ ملے اور وہ اُس کو پا لے اور اُس پر خرچ کرے تو اس کا شرعی حکم کیا ہے؟
حدیث نمبر: 22445
٢٢٤٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن علية عن ابن عون قال: حدثنا المسور بن (زيد) (١) أن امرأة التقطت صبيًا، فأنفقت عليه حتى شب، ثم طلبت نفقتها، فكتب في ذلك إلى عمر بن عبد العزيز أن تستحلف أنها لم (تنفق) (٢) عليه احتسابًا، فإن حلفت (استسعي) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسور بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک عورت کو بچہ ملا، اس نے اس کو پالا اور اس پر خرچ کیا یہاں تک کہ وہ جوان ہوگیا، پھر خاتون نے اس لڑکے سے نفقہ کا مطالبہ کیا، اس لڑکے کے باریحضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو خط لکھ کر اس کا حکم طلب کیا گیا۔ آپ نے جواب میں فرمایا کہ اس عورت سے قسم لی جائے گی کہ اس نے ثواب کی نیت سے لڑکے پر خرچ نہیں کیا۔ اگر وہ قسم کھالے تو لڑکے سے نفقے کے لیے سعی کرنے کو کہا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22445
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22445، ترقيم محمد عوامة 21546)
حدیث نمبر: 22446
٢٢٤٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر في الرجل ينفق على (اللقيط) (١) قال: لا شيء له.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی لقیط ( گرے پڑے بچہ ) پر خرچ کرے تو ( بعد میں ) اس بچہ پر کچھ لازم نہیں ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22446
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22446، ترقيم محمد عوامة 21547)
حدیث نمبر: 22447
٢٢٤٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حاتم بن إسماعيل عن جعفر عن أبيه عن علي قال: (المنبوذ) (١) حر، وإن طلب الذي رباه نفقته وكان موسرا رد عليه، وإن لم يكن موسرا كان ما أنفق عليه صدقة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جو بچہ ملے وہ آزاد ہے، جس شخص نے اس بچہ کی پرورش کی ہے اگر وہ نفقہ کا مطالبہ کرے تو اگر بچہ ( بڑا ہو کر ) مالدار ہو تو اس کو واپس کرے گا اور اگر وہ بچہ مالدار نہ ہو تو اس شخص نے جو اس پر خرچ کیا ہے وہ صدقہ ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22447
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22447، ترقيم محمد عوامة 21548)
حدیث نمبر: 22448
٢٢٤٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود الطيالسي عن شعبة قال: أخبرني خالد بن أبي (الصلت) (١) قال: قال (لي) (٢) عمر بن عبد العزيز: إن عمر بن الخطاب قضى في ولد الزنا أنه يقاص صاحبه بما خدمه، وما بقي (استسعي) (٣) (فيه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد بن ابی صلت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے مجھ سے فرمایا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ولد الزنا کے متعلق فیصلہ فرمایا تھا کہ وہ اپنے پالنے والے کا حساب چکائے جو اس نے اس کی خدمت کی ہے، اور جو باقی رہ جائے اس کے لئے کوشش کرے، اور میں نے فیصلہ کیا ہے کہ جو اس نے خدمت کی ہے اس کا حساب چکائے اور جو باقی بچ جائے وہ بیت المال سے ادا کیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22448
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22448، ترقيم محمد عوامة 21549)
حدیث نمبر: 22449
٢٢٤٤٩ - وقضيت أنا: يقاصه بما خدمه، وما بقي أديته عنه من بيت المال.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البيوع والأقضية / حدیث: 22449
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 22449، ترقيم محمد عوامة ---)